بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسبوق کس طرح اپنی نماز مکمل کرے؟

مسبوق کس طرح اپنی نماز مکمل کرے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسبوق چار رکعات والی نماز میں شریک ہوا ، امام کے نماز سےفارغ  ہونے کے بعد مسبوق نماز کہاں سے شروع کرے،تیسری رکعت سے  یا پہلی سے  یعنی  امام کے بعد  پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ سورت   ملا کر پڑھے یا نہیں؟ راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

مسبوق امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی نماز  پہلی رکعت سے شروع کرے گا،جس میں ثناء، تعوّذ ، تسمیہ ، سورۃ الفاتحہ اور سورت مال کر پڑھے گا۔

لما في الهندية:

فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة ... ولو أدرك ركعة من الرباعية فعليه أن يقضي ركعة يقرأ فيها الفاتحة والسورة..... ولو أدرك ركعتين قضى ركعتين بقراءة.(كتاب الصلاة،الفصل السابع في المسبوق واللاحق،1149،دارالفكر)

وفي الدر المختار:

ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد، فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما،(كتاب الصلاة،باب الامامة:4418،ط: رشيدية) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/58