بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ٹرسٹ فنڈ کو زکوٰة دینے کا حکم کیا ہے؟

ٹرسٹ فنڈ کو زکوٰة دینے کا حکم کیا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ زید اور بکر نے ساتھ مل کر ایک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد بے روز گار ہنر مندوں کو برسر روز گار کرنا ہے، ٹرسٹ کی انتظامیہ اہل خیر حضرات سے زکوٰة وصدقات کی وصولی کرتی ہے اور مستحقین تک پہنچاتیہے۔

ٹرسٹ کے معاونین دو قسم کے ہیں:
مستقل اور غیر مستقل

مستقل افراد کے تعاون سے دفتری اخراجات اور ٹرسٹ کے دیگر لوازمات ( بلڈنگ کا کرایہ، اسٹیشنری، یوٹیلٹی بلز وغیرہ) کی ادائیگی ہوتی ہے اور تعاون کنندہ گان کی اس مد میں خرچ ہونے والی رقم زکوٰة یا صدقات واجبہ میں سے نہیں ہوتی، بلکہ عطیہ ہوتی ہے، جب کہ غیر مستقل معاونین سے زکوٰة وصدقات کی صورت میں وصول ہونے والے فنڈز کو لوگوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اس کے استعمال کی دو صورتیں ہیں:
زکوٰة فنڈ سے باقاعدہ ہنر مند/ بے روز گار طبقہ کو سامان کی صورت میں پچاس ہزار تک کا تعاون دیا جاتا ہے جو کہ ناقابل واپسی ہے، لیکن احساس ذمہ داری کو اجاگر کرنے کے لیے وصول کار کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ رقم آپ کے خود کفیل ہونے کے بعد ( تقریباً ایک سال کا وقت دیا جاتا ہے ) ماہانہ اقساط کی صورت میں اپنے ہی اکاؤنٹ میں جمع کروانی ہے، جب اقساط پوری ہو جائیں گی تو ادارہ آپ سے وصول کرے گا، اس دوران اس فرد کی چیک بک اور اے ٹی ایم ادارہ کے پاس محفوظ رہتا ہے، لیکن ادارہ اس رقم کو نکالنے کا مجاز نہیں، جیسے ہی اقساط پوری ہو جاتی ہیں ادارہ کسی ایک بے روز گار/ ہنر مند کو اس فرد کے پاس لے جاتا ہے کہ یہ بھی آپ ہی کی طرح بے روز گار/ ہنر مند ہے، آپ کا تعاون ادارہ نے کیا تھا، اب ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس کا تعاون اپنے ہاتھ سے کیجیے اور یہ پھر کسی اور کا تعاون کرے گا اور وہ فرد پھر چیک اس مستحق کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے، اس سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں:

ایک فائدہ یہ ہے کہ اس صورت میں زکوٰة کی رقم سرکل میں آ کر کئی لوگوں کے روز گار کا سبب بن جاتی ہے اور صاحب ِ نصاب کے لیے مستقل صدقہٴ جاریہ۔

دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زکوٰة وصول کرنے والے کے اندر احساس ِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور متفکر رہتا ہے کہ اسے یہ رقم واپس کرنی ہے، اور بہر صورت وہ معاشی طور پر خود کفیل ہونے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے، بصورت دیگر اگر اسے یہ بتا دیا جائے کہ یہ رقم آپ کی ہے، آپ کاروبار کیجیے تو تجربہ بتاتا ہے کہ وہ رقم کسی اور مصرف میں خرچ کر ڈالتا ہے اور آئندہ پھر زکوٰة کی رقم کا امیدوار بن کر لائن میں لگا ہوتا ہے، لیکن اس حیلہ سے معاشرے کے ایک فرد کو زکوٰة لینے کے بجائے دینے والا بنایا جاتا ہے ،تاکہ معاشرتی سدھار ہو سکے۔

دوسرا تعاون بطور قرضہ حسنہ ہے، اس مد میں صرف عطیات کی رقم ہوتی ہے، اس میں زکوٰة کی رقم شامل نہیں کی جاتی، عین اسی طرح بے روزگار/ ہنر مند طبقہ کو قرض حسنہ دیا جاتا ہے اور یہ قابل واپسی ہے، اقساط کی صورت میں ادارہ اس کی باقاعدہ وصولی کرتا ہے اور وصولی کے بعد اپنی صوابدید پر ہی اسے آگے کسی اور شخص کو بطور قرض دیتا ہے۔

دریافت طلب امور یہ ہیں:
کیا اس صورت میں زکوٰة کی ادائیگی ہوجاتی ہے ؟ کیا اس طرح ملکیت منتقل کی جاسکتی ہے؟ کیا انتقال درا نتقال سے زکوٰة کی رقم کو سرکل میں لاکر معاشرہ کے مستحق افراد کو معاشی طور پر بحال کرنا شرعی طور پر پسندیدہ فعل ہے؟ مدلل، جامع اور باحوالہ جواب عنایت کیجیے۔

جواب

 مذکورہ طریقہ کار تملیک نہیں، بلکہ قرضہ شمار ہو گا اور زکوٰة کی ادائیگی مزکی (زکوٰة ادا کرنے والے) کے ذمے باقی رہے گی، جب کہ ٹرسٹ والوں پر اس رقم کا ضمان مزکی کو ادا کرنا واجب ہو گا۔

اس کے ساتھ یہ بات واضح رہے کہ زکوٰة ادا کرنے والے یہ رقم ٹرسٹ والوں کو مستحقین تک پہنچانے کے لیے دیتے ہیں، نہ کہ لوگوں کو (اگرچہ وہ مستحق ہی کیوں نہ ہوں) یہ رقم قرضے کی صورت میں دینے کے لیے،اسی طرح اس طر یقے میں یہ خامی بھی ہے کہ وہ مستحقین جو خود کمانے کے قابل نہیں، مثلاً :بوڑھے، بیوہ وغیرہ وہ اس رقم سے محروم رہیں گے، البتہ اگر زکوٰة اور دیگر واجب صدقات کے علاوہ دیگر عطایا (جیسا کہ استفتاء کی دوسری صورت میں مذکور ہے) معطین کی اجازت سے اس غرض کے لیے استعمال کیے جائیں تو جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی