بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وضو خانے پر امام صاحب کا حجرہ بنانا

وضو خانے پر امام صاحب کا حجرہ بنانا

سوال

کیافرماتےہیں علمائےکرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ کیا  مسجد کےبیت الخلاء اور وضوخانےکےاوپر امام مسجد کےلیے گھربناناجائزہے؟ جبکہ اس کےعلاوہ کوئی اور جگہ میسرنہیں ہے،  اور اس میں کیا واقف کی اجازت کاکچھ دخل ہے یا نہیں؟مسئلہ کا بحوالہ جواب دے کر مشکور فرمائیں

جواب

مسجد سے خارج حصہ جس میں وضوخانہ، غسل خانہ، بیت الخلاء وغیرہ بنےہوئےہوں، اس کےاوپر امام مسجد کےلیےگھر بنانا جائز ہے۔ اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں، اور امام کاہونا مسجد کی جملہ ضروریات میں سےہے، تو اس کی ضروریات کاخیال کرنابھی ضروری ہے، نیز واقف سے صراحتاً  اجازت لینابھی ضروری نہیں، کیوں کہ دلالۃً  اس کی اجازت ہوتی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/9