بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وصیت کل مال کے ایک تہائی حصّے میں نافذ ہوتی ہے

وصیت کل مال کے ایک تہائی حصّے میں نافذ ہوتی ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  میری والدہ صاحبہ کا ایک مکان ہے،جو کہ کرائے پر ہے،اس مکان کی وہ کلی طور پر مالک ہیں،والدہ صاحبہ حیات ہیں،والدہ صاحبہ کا یہ فرمانا ہے کہ ہم  اپنے مکان کی تقسیم سے اپنی اولاد کو کوئی حصّہ نہیں دیں گے،میرے بعد اس مکان کو بیچ کر ہمارا فدیہ ادا کرنا،مسجد ، مدرسہ وغیرہ میں اس رقم کو تقسیم کردینا،کیا والدہ صاحبہ کی اس طرح وصیت کرنا صحیح ہے،اولاد کو ان کی  وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے،وصیت پوری نہ کرنے کی صورت میں اولاد گناہ گار تو نہ ہوگی؟۔  

 

جواب

واضح رہے کہ جائیداد کے ایک تہائی حصّے میں وصیت کرنا شرعاً جائز ہے،اور ورثاء پر ا س کا پورا کرنا واجب ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی والدہ صاحبہ نے جس مکان کی وصیت کی ہے ،اگر وہ مکان اس کی کل میراث کے ایک تہائی حصّے کے برابر ہو، یا اس سے کم ہو ،تو اس صور ت میں اس پورے مکان کو بیچ کر اس کی قیمت والدہ کی وصیت کے مطابق خرچ کرناورثاء کے ذمّے واجب ہے،وصیت پورا  نہ کرنے کی صورت میں میں ورثاء گناہگار ہوں گے۔

او راگر مکان والدہ کے کل میراث کے ایک تہائی حصّہ سے زائد ہو، تو اس صورت میں ورثاء پر والدہ کے ایک کل میراث کے ایک تہائی حصّے تک وصیت پوری کرنا لازم ہے، باقی دو تہائی حصّے ورثاء کے درمیان بطور میراث تقسیم ہوں گے،البتہ بعض یا سب ورثاء بطیبِ خاطر والدہ کی وصیت پوری کرنا چاہیں، تو یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا۔فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/139