بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والد کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم

والد کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم

سوال

… میری والدہ 2013ء میں الله کی پیاری ہوگئی تھی اورمیرے والد بینک میں 1980ء سے نوکری کر رہے تھے۔2016ء میں میرے والد صاحب نے دوسری شادی کر لی تھی اور دوسری شادی کے بعد سوتیلی ماں کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب سے خراب تر ہوتا چلا گیا، ایسے ہی ہمارے والد صاحب کا سلوک ہم سے دن بدن خراب ہوتا جارہا ہے، میرے والد صاحب منیجرکی پوزیشن سے 2017ء میں ریٹائر ہو گئے تھے، میں نے2007ء سے نوکری کرنا شروع کی ہے اور شروع سے ہی تقریباً پوری تنخواہ گھر میں دیتا تھا، یہاں تک کہ اپنا خرچہ بھی گھر سے لیتا تھا ،میں نے اپنے لیے ایک روپیہ بھی جمع نہیں کیا، میری شادی 2014ء میں ہوئی اور شادی کے بعد سے میں اپنے سارے خرچے خود اٹھاتا رہا ہوں، شادی کے بعد سے میں اپنے والد صاحب کو وقتاً فوقتاً کبھی کم کبھی زیادہ خرچ دیتا رہتا ہوں، عید وغیرہ پر ان کو الگ پیسے دیتا ہوں، تاکہ ان پر بوجھ نہ ہو، مختصر یہ کہ اب معاملات یہ ہیں کہ جب بھی جاتا ہوں تو حال احوال سے بڑھ کر کوئی بات نہیں ہوتی اور میں اس لیے نہیں کرتا کہ وہ کسی بات پر ناراض نہ ہوں، اب جو کچھ تھوڑی بہت ملکیت تھی والد صاحب نے وہ فروخت کر دی ہے اور میں جس اکاؤنٹ میں پیسے بھیجتا تھا وہ اکاؤنٹ بھی بندکرا دیا ہے، صرف اس وجہ سے کہ ان کا مطالبہ 35000 سے زائد کا ایک مہینے کے لیے ہے، جب کہ گھر میں صرف والد صاحب اور سوتیلی امی ہیں، اتنے پیسے میرے لیے پورا کرنا مشکل ہے، اس بارے میں راہ نمائی کریں کہ کیا اس صورت حال میں،میں اپنے والدکا فرماں بردار بیٹا ہوں یا نافرمان ہوں اور اسلام اس صورت حال میں کیا درس دیتا ہے؟

جواب

…واضح رہے کہ والدین الله رب العزت کی طرف سے عظیم تر نعمت ہیں، قرآن وحدیث میں جگہ جگہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے، خصوصاً جب کہ وہ بڑھاپے کو پہنچ چکے ہوں اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے خصوصاً والد کی رضا کو رب کریم کی رضا کا ذریعہ بتلایا ہے، لہٰذا جہاں تک ممکن ہو والدکے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں، البتہ اگر والد صاحب، صاحب ِ حیثیت ہیں تو آپ پر انہیں خرچہ دینا لازم نہیں اور محتاج ہیں تو بقدر ضرورت انہیں خرچ دینا لازم ہے اور جو چیز آپ کی طاقت وقدرت سے باہر ہے، تو شرعاً اس پر آپ کا کوئی مواخذہ نہیں ہے۔