بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والد کی ایک بیٹے کے ساتھ بائیکاٹ کی وصیت کا حکم

والد کی ایک بیٹے کے ساتھ بائیکاٹ کی وصیت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ اس کے نو بیٹے ہیں، وہ اپنی آخری عمر میں آٹھ بیٹوں کو جمع کرکے نویں بیٹے کے خلاف وصیت کرتا ہے، یعنی اس نے آٹھ بیٹوں کو کہا کہ تم سب اپنے بھائی سے ہر طرح کا بائیکاٹ کرو، بالکلیہ تعلق ختم کرو اور اسے میری نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہونے دینا اگر تم نے اس کی خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن میں تمہارے گریبان پکڑوں گا، اب والد کی اس بات پر آٹھ بیٹوں کو عمل کرنا ضروری ہے؟ اگر اس کی بات کی خلاف ورزی کی تو کیا اولاد گناہ گار ہو گی؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں واضح اور کافی و شافی جواب دیں۔

 

جواب

 مذکورہ سوال میں چند باتیں قابل غور ہیں:
الف۔ قرآن وحدیث میں والدین کی خدمت کے بڑے فضائل آئے ہیں اور ان کی نافرمانی اور ستانے کی سزائیں بھی تفصیل سے ذکر کی گئی ہیں، والدین کی نافرمانی کا گناہ بہت بڑا ہے او راس کی سزا الله رب العزت دنیا ہی میں چکھا دیتے ہیں ،کہ ایسے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور خود ان کی اولاد نافرمان بن جاتی ہے ، ایسی نافرمان اولاد کو بلا تاخیر اپنے والد کے قدموں میں گِر کر معافی مانگنی ضروری ہے، اگر خدا نخواستہ!والدین اس دنیا سے رحلت فرماچکے ہیں، تو ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا خوب اہتمام کرے اور والدین کے تعلق رکھنے والوں سے اچھا تعلق رکھے اور اپنے گناہ پر الله تعالیٰ سے خوب گِڑ گڑا کر معافی مانگے۔

ب۔ شریعت مطہرہ میں صلہ رحمی (رشتہ جوڑنے) کی تاکید آئی ہے اور قطع رحمی (رشتہ توڑنے) پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

ج۔ اگر والدین شریعت کے خلاف حکم دیں تو ان کی اطاعت کرنا جائز نہیں۔

د۔کسی شرعی مصلحت کی وجہ سے تعلق ختم کرنا جائز ہے۔

مندرجہ بالا باتوں کی روشنی میں مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر والد بائیکاٹ کے ذریعے بیٹے کی اصلاح کرنا چاہتا ہو،تو اس کی گنجائش ہے ، اگر محض قطع رحمی مقصود ہو تو جائز نہیں، اس وصیت پر دوسرے بیٹوں کے لیے عمل کرنا جائز نہیں، اس حکم کی خلاف ورزی سے اولاد گناہ گار بھی نہیں ہو گی؛ کیوں کہ الله تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اور بہر صورت والد کے جنازے میں شرکت سے منع نہیں کیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی