بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

والدین کے لیے بچوں کے ہدایا استعمال کرنے کاحکم

والدین کے لیے بچوں کے ہدایا استعمال کرنے کاحکم

سوال

 کیا فرماے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ بچوں کے والدین کو بچوں کے لیے مختلف اوقات میں ہدایا ملتے ہیں، مثلاً :ولادت کے وقت، عقیقہ اورختنہ کے موقع پر یا اس کے علاوہ خوشی کے مختلف اوقات میں اور جو ہدایا ملتے ہیں ان میں مختلف چیزیں ہوتی ہیں، مثلاً :کپڑے، کھلونے، سونے چاندی کے زیورات اور نقد رقم وغیرہ، اب سوال یہ ہے کہ والدین ان میں سے کون کون سی چیزوں میں کتنے تصرف کا حق رکھتے ہیں؟ کیا والدین نقد رقم خود استعمال کرسکتے ہیں یا کسی کو یہ چیزیں ہدیہ کر سکتے ہیں؟ یا بچوں ہی کی ضروریات میں ان چیزوں کا استعمال ضروری ہے؟ اور اس کی بھی وضاحت کریں کہ والدین بچے کے مال وجائیداد میں کیا کیا تصرف کرسکتے ہیں اور کیا کیا نہیں؟

مسئلے کی مکمل تحقیق کرکے ایسا اطمینان بخش جواب دے دیں کہ کوئی گوشہ مخفی نہ رہے۔

جواب

واضح رہے کہ ختنہ وغیرہ کی تقریبات میں چھوٹے بچوں کو جو کچھ دیا جاتا ہے اس سے خاص اُس بچہ کو دینا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ ماں، باپ کو دینا مقصود ہوتا ہے، اس لیے وہ سب ہدیہ بچہ کی ملک نہیں، بلکہ ماں، باپ اس کے مالک ہیں، جو چاہے کریں، البتہ اگر کوئی شخص خاص بچہ ہی کو کوئی چیز دے، تو پھر وہی بچہ اس کا مالک ہے، اگربچہ سمجھ دار ہے، تو خود اس کا قبضہ کر لینا کافی ہو گا، پس جب قبضہ کر لیا، تو مالک ہو گیا، او راگر بچہ قبضہ نہ کرے یا قبضہ کرنے کے لائق نہ ہو تو اگر باپ ہو، تو اس کے قبضہ کر لینے سے بچہ مالک ہو جائے گا اور اگر باپ نہ ہو ، تو دادا کے قبضہ کر لینے سے مالک ہو جائے گا اور اگر باپ، دادا موجود نہ ہوں، تو وہ بچہ جس کی پرورش میں ہے اس کو قبضہ کر نا چاہیے اور باپ دادا کے ہوتے ہوئے ماں، نانی، دادی وغیرہ اور کسی کا قبضہ کرنا معتبر نہیں ہے۔

رہی یہ بات کہ والدین بچہ کے مال میں کیا کیا تصرف کرسکتے ہیں؟ تو جو چیز نابالغ کی ملک میں ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے بچے ہی کے کام میں لانا چاہیے، کسی کو اپنے کام میں لانا جائز نہیں، خود ماں، باپ بھی اپنے کام میں نہ لائیں، نہ اور کسی بچہ کے کام میں لائیں، جس طرح خود بچہ اپنی چیز کسی کو دے نہیں سکتا اسی طرح باپ کو بھی نابالغ اولاد کی چیز کسی کو دینے کا اختیار نہیں، اگر ماں، باپ بچہ کی چیز کسی کو بالکل دے دیں یا ذرا دیر یا کچھ دن کے لیے دے دیں تو اس کا لینا درست نہیں، البتہ اگر ماں باپ کو شدید ضرورت ہو اور وہ چیز کہیں اور سے ان کو نہ مل سکے، تو مجبوری اور لاچاری کے وقت اپنی اولاد کی چیز لے لینا درست ہے او رماں، باپ وغیرہ کو بچہ کا مال کسی کو قرض کے طور پر دینا بھی صحیح نہیں، بلکہ خود قرض لینا بھی صحیح نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی