بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز جنازہ کے بعد اجتماعی دعا کا حکم ،حیلہ اسقاط کا شرعی حکم

نماز جنازہ کے بعد اجتماعی دعا کا حکم ،حیلہ اسقاط کا شرعی حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ومفتیان شرع مبین اس بارے میں کہ جانب راجح اور اقرب الی الحق کیا ہے؟

ہمارے علاقے میں زمانہ قدیم سے یہ سلسلہ چلا آرہا تھا، کہ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد اور دفن سے پہلے میت کے لیے دعا مانگی جاتی تھی، نیز ہر میت کے لیے حیلہ اسقاط کو بھی عمل میں لایا جاتا تھا،بعد میں پرانے علماء تو اس دنیا سے رحلت کر گئے اور جدید علمائے کرام نے ان دونوں باتوں(دعا بعد الجنازۃاور حیلہ اسقاط)کو بدعت قرار دے کر ان کو عمل میں لانے سے انکار کردیا،جس سے عوام میں سخت بے چینی پیدا ہوئی،اور آج تک عوام یہ سوال کررہے ہیں ،کہ اگر یہ دونوں امر بدعت تھے، تو قدیم علمائے کرام نے ان کو کیوں عمل میں لایا؟کیا وہ بدعتی تھے؟یابدعت کو بدعت نہ سمجھ سکے؟حالانکہ ان پرانے علمائےکرام میں سے ایک عالم دین براہ راست دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا معراج الدین رحمہ اللہ ہمارے علاقے کے رہنے والے تھے، یا وہ تقویٰ میں ان جدید فارغ التحصیل علمائے کرام سے کم تھے؟تو میں نے ان دونوں مسئلوں کو علی سبیل البصیرت سمجھنے کی کوشش میں کئی کتابیں جو میرے پاس موجود ہیں دیکھ لیں،جن میں سے ایک کتاب ’’البحر الرائق اور مسلم شریف‘‘بھی ہے، تو صاحب بحر نے بعد الجنازہ کے بارے میں بحوالہ مسلم شریف ایک حدیث نقل کی ہے:

«عن جبير بن نفير عن عوف بن مالك قال صلى رسول الله-صلى الله عليه وسلم- على جنازة فحفظت من دعائه: وهو يقول:اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله داراً خيراً من داره وأهلاً خيراً من أهله وزوجاً خيراً من زوجه وأدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر و عذاب النار،قال عوف:حتی تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت.رواه مسلم. وقید بقولہ(بعد الثالثة) لأنہ لایدعو بعد التسلیم کما في الخلاصة،وعن الفضلي:لابأس بہ». (کتاب الجنائز،فصل السلطان أحق بصلاتہ).

درجہ بالا عبارت میں چند الفاظ جو کہ یہ ہیں¨صلى¨فحفظت من دعائه¨ حتی تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت.

اور بعد میں ان الفاظ کے ذکر سے کہ ’’وقید بقولہ(بعد الثالثة) لأنہ لایدعو بعد التسلیم کما في الخلاصة‘‘مجھے سمجھنے میں یہ الجھن پیش آرہی ہے، کہ اس سے تیسری تکبیر کے بعد والی دعا کیسے مراد لی جاسکتی ہے؟حالانکہ یہاں ’’صلی‘‘ فعل ماضی کا صیغہ ہے،یعنی کہ اس نے نماز جنازہ پڑھی ،تو  پڑھنے کے بعد دعا بعد الجنازہ کا وقوع ہوسکتا ہے،نماز کے اندر اگر یہ دعا ہوئی ہوتی، تو ’’یصلی‘‘ کا صیغہ استعمال ہوا ہوتا۔

جنازہ کے اندر کی دعا تو جہراً نہیں بلکہ سراً پڑھی جاتی ہے ،چنانچہ مسلم شریف میں امام نوویؒ فرماتے ہیں:’’وأما الدعاء فیسر بہ بلا خلاف‘‘اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں نے یہ دعا یاد کی ،تو یاد کرنے کے لیے تو پہلے سننا ضروری ہے، اور جنازہ کے اندر کی دعا سراً پڑھی جاتی ہے، توعوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کیسے سُنی؟نیز تمنا کے لیے تو پہلے سننے کی ضرورت ہے، تو ’’فحفظت اور تمنیت‘‘سے تو بلاتکلف یہ ثابت ہوتا ہے،کہ یہ دعا بعد الجنازۃ اور قبل الدفن ہوئی ہوگی،کیونکہ دفن کا تو حدیث کے الفاظ میں سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔

نیز اس روایت سے ’’دعا جنازہ کے اندر‘‘ کو ثابت کرنا تکلف سے خالی نہیں، کیونکہ اس کے لیے بہت سی تاویلات اور محذوفات ماننے پڑتے ہیں، اور وہ  تاویلات  بھی بظاہر بہت پر تکلف ہیں :  جیسا کہ شرح   امام نووی  رحمہ اللہ میں اس کا ذکر موجود ہے، کہ:

’’یتأول ھٰذا الحدیث علی أن قولہ حفظت من دعائہ أي :علمنیہ بعد الصلاۃ فحفظتہ‘‘ پھر محشی نے اس تاویل کے بارے میں یہ الفاظ کہہ دئیے ہیں کہ ’’قلت ولایخلون عن بعد‘‘اور بعد میں محشی نے خود بھی ایک تاویل پیش کی ہے کہ:

’’قولہ: فحفظت من دعائہ وھو یقول المعروف عند العلماء في الدعاء ھو الإسرار فلعل ھٰذا اللفظ لقربہ من النبي –صلی اللہ علیہ وسلم-ربما یسر بحیث یسمع القریب بعض ذلک  وقد صح وکان یسمعنا الآية أحیانا فلعل ھٰذا من ھذا القبیل واللہ تعالیٰ أعلم‘‘.(مسلم شریف:12،ط:رحمانیہ)

لیکن بظاہر اور میرے ناقص فہم کے مطابق یہ تاویل بھی تکلف سے خالی نہیں، کیونکہ یہاں تو ’’یسمع القریب بعض ذلک‘‘ نہیں ہے، بلکہ پوری کی پوری دعا ہے،اور دعا بھی یاد کی گئی ہے، نیز یہ ایک احتمال ہے، یقینی وقوع تو نہیں ہے، تو صرف احتمال کی بنیاد پر ’’بدعت‘‘ کا حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کے مقابلے میں دعا بعد الجنازۃ کے عدم جواز کے بارے میں دوسرے زیادہ قوی دلائل موجود ہوں،جس سے اس روایت میں مذکورہ اور اس طرح کی دیگر تاویلات کی ضرورت پیش آئی ہو، لیکن مجھے اس کا علم نہیں ہے، ہاں بعض فتاویٰ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ جنازہ بذات خود دعا ہے،اور دعا کے بعد دعا کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ کوئی شرعی دلیل نہیں ہے،کیونکہ کتابوں میں اس کو صلاۃ الجنازۃ کہا گیا ہے، اور صلاۃ کا لغوی معنی دعا ہے،اور اصطلاحی معنی نماز ہے اور فقہ میں عموما اصطلاحی معنی مراد ہوتے ہیں، نیز فتاویٰ میں دعا بعد الدعاء کی ممانعت کے لیے دلائل اربعہ میں سے کوئی دلیل ذکر نہیں کی گئی ہے،نیز جنازہ دعائے محض نہیں ہے، بلکہ مشتمل بالدعا ہے، جس طرح کہ فرض نمازیں مشتمل بالدعاء ہیں، ورنہ جنازہ میں استقبال قبلہ فرض نہیں ہوتا،جیسا کہ دعائے محض میں استقبال قبلہ فرض نہیں ہے۔

مذکورہ بالا امور کی مبرھن تشریح کر کے بندہ کی تشنگی دور کریں، اور دعاگو رہنے کاموقع عنایت فرمائیں۔

(نوٹ):مذکورہ بالا تاویلات پر میں نے جو اپنے ناقص الفاظ ذکر کیے ہیں ،ا س سے مقصود اپنے اکابر فقہائے کرام اور محدثین عظام پر رد نہیں ہے، بلکہ اپنے سمجھنے میں جو الجھن اور مشکل درپیش ہے، اس کو واضح طور پر پیش کرنا مقصود ہے۔

جواب

 کسی مسلمان کی وفات کے بعد اس کے عزیز واقارب اور دوست واحباب اس کو جو بہترین تحفہ بھیج سکتے ہیں اور اس کے ساتھ جو حسنِ سلوک کرسکتے ہیں،وہ اس کے حق میں دعا کرنا ہے، انفرادی طور پر جس وقت بھی کوئی چاہے،اس کے لیے دعا کرسکتا ہے،اس میں کوئی قباحت اور خرابی نہیں ہے، نصوصِ شرعیہ سے اس کا واضح ثبوت ملتا ہے،لیکن بصورتِ اجتماع میت کے لیے دعا کرنے کا ثبوت صرف نمازِ جنازہ کی صورت میں ہے، اس کے علاوہ جہاں شریعت نے اجتماعی صورت میں دعا کا طریقہ نہیں بتلایا، وہ درست نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین اور تبع تابعین نے ایک دو نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں جنازے پڑھے اور پڑھائے، مگر کسی سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد فوراً اجتماعی صورت میں دعا مانگی ہو، اس وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز ِ جنازہ کے بعد فوراً اجتماعی صورت میں دعا کرنا ناجائز اور بدعت ہے۔

رہی آپ کی یہ بات کہ پرانے علمائے کرام یہ عمل کیوں کرتے تھے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم قرآن وسنت کے مطابق عمل کریں، اور ان علماء کرام کی اتباع کریں، جو قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرتے ہوں، چند علماء کرام کا قول اور عمل جمہور علماء کے مقابلہ میں حجت اور دلیل نہیں ہے۔

       لہٰذا  آپ کو چاہیےکہ جمہور علماء کرام کے قول پر عمل کریں ،چند علماء کرام کے قول اور عمل کی طرف توجہ نہ دیں۔

 

آپ نے ’’البحر الرائق‘‘ سے بحوالہ’’مسلم شریف‘‘ جو حدیث شریف نقل کی ہے ،اور اس حدیث کے بعض الفاظ سے آپ کو اشکال ہے کہ حدیث شریف میں ’’صلی‘‘ فعل ماضی کا صیغہ آیا ہے،تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے نماز جنازہ پڑھی،تو نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دعا بعد الجنازہ ہی ہوسکتی ہے،اگر اس سے مراد نماز جنازہ کے اندر کی دعا ہوتی،تو صلی کی بجائے یصلی کا صیغہ استعمال ہوتا،حا لانکہ یہاں صلی  فعل ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے،تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نماز جنازہ کے بعد کی ہی دعا ہے،نہ کہ نماز جنازہ کے اندر کی دعا،تو آپ کا اس حدیث سے استدلال مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر درست نہیں :

1-  یہ صحابی (حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ )حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا قصہ بیان کر رہے ہیں،جبکہ واقعہ بیان کرنے کے لیے فعل ماضی ہی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے،نہ کہ فعل مضارع کا۔

2- ممکن ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعا  نماز جنازہ کے اندر لوگوں کو تعلیم دینے کے لیےجہرا پڑھی ہو،جیسا کہ بعض شراح حدیث نے لکھا ہے،اسی طرح یہ بھی ممکن ہےکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تو سرا ً پڑھی ہو،لیکن قریب میں کھڑے ہوئے کچھ لوگوں نے سن لی ہو،اور قریبی کھڑے  ہوئے لوگوں میں سے ایک یا دو کا سننا یہ سر کے خلاف نہیں ہے،جیسا کہ فتاوی شامی میں مذکور ہے۔  

3- محدثین حضرات نے اس حدیث کو جن ابواب کے تحت ذکر کیا ہے ،ان ابواب کے ترجمۃ الباب سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ’’ اس سے مراد نماز جنازہ میں پڑھی جانے والی دعا ہے، نہ کہ نماز جنازہ کے بعد کی دعا مراد ہے‘‘۔جیسا کہ: مسلم شریف (باب الدعا للمیت في الصلاۃ)،جامع الترمذي(باب مایقول في الصلاۃ علی المیت)، ریاض الصالحین(باب ما یقرأفي صلاۃ الجنازۃ)،السنن الکبریٰ للبیہقی(باب الدعاء في صلاۃ الجنازۃ)اورسبل السلام (الدعاء للمیت بعد التکبیرۃ الثالثۃ)میں اسی طرح ان ابواب میں واضح طور پر مذکور ہے۔

باقی رہی یہ بات جو آپ نے اس تاویل (فلعل ھذا اللفظ لقربہ من النبی صلی اللہ علیہ و سلم الخ)  کے بارے میں کہی ہےکہ میری ناقص فہم کے مطابق یہ تاویل بھی تکلف سے خالی نہیں ہے،اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس تاویل میں (یسمع القریب بعض ذالک) نہیں ہے،بلکہ پوری کی پوری دعا یاد کی ہے،تو اس  کا جواب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سننے سے پوری دعا کا یاد کرنا یہ کوئی مشکل اور عقل کے منافی بات  نہیں ہے،خاص طور پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے ۔

 

باقی رہا’’حیلہ اسقاط‘‘تو حیلہ اسقاط کے بارے میں فقہائے کرام نے ورثاء کو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے:

(1)….فدیہ کا مال میت کی میراث سے نہ ہو۔

(2)….اگر فدیہ کا مال میت کی میراث ہے، اور میت نے وصیت بھی کی ہے، تو کل میراث کا’’ایک تہائی‘‘اتنا کم ہو کہ اس کے ذریعے سے فدیہ میت کے ذمے سے ساقط نہ ہوتا ہو۔

(3)….یافدیہ کا مال میت کی میراث ہے، لیکن میت نے وصیت نہیں کی ہے، تو کل میراث کا ’’ایک تہائی‘‘حصے میں سے(جو ناکافی بھی ہے)صرف بالغ ورثاء ہی کا حصہ ہو،اور ان کی بخوشی اجازت بھی ہو،نابالغ ورثاء کا کوئی حصہ نہ ہو،اور نہ ان کی اجازت معتبر ہوگی۔

(4)….جس کو فدیہ کا مال دیا جارہا ہو،وہ صاحب نصاب ،مجنون اور نابالغ نہ ہو۔

(5)….فدیہ کامال لینے والا اپنے آپ کو اس مال کا حقیقی طور پر مالک ومختار سمجھتا ہو، اس پردباؤ یا زبردستی کئے بغیر اپنی رضامندی سے فدیہ کا مال بخوشی ورثاء کو دوبارہ واپس کرتا ہو، جس میں ایجاب وقبول کا مکمل پایا جانا ضروری ہے۔

(6)….’’حیلہ اسقاط‘‘کرنے والا میت کا وارث ،وصی یا وکیل ہو، ان کے اجنبی فضولی کی طرف سے جائز نہیں ۔

(7)….’’حیلہ اسقاط‘‘کو سنت یا واجب کا درجہ دے کر تجہیز وتکفین کے ساتھ لازم نہ کیا جائے۔

(8)….اگر میت کی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا علم نہ ہو،تو بلوغت کے بعد کی تمام نمازوں اور روزوں کا حساب لگاکر ہر نماز اور روزہ کے بدلے میں فطرانہ کی قیمت فدیہ میں ادا کرنا ضروری ہے۔

لیکن آج کل مروجہ ’’حیلہ اسقاط‘‘اگر چہ صحیح اور شرعی قواعد کے مطابق ہو، پھر بھی مفاسد کثیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔من جملہ مفاسد میں سے چند مفاسد مندرجہ ذیل ہیں:

(1)….مروجہ حیلہ اسقاط میں فقیر مسکین کو فدیہ کے مال کا حقیقی طور پر مالک بنانے کے بجائے دوبارہ واپس لینے کے لیے مال دیا جاتا ہے۔

(2)….عموماً میت او رمیت کے ورثاء صاحبِ استطاعت ہوتے ہیں،مگر وہ پھربھی’’حیلہ اسقاط‘‘کرتے ہیں۔

(3)….فدیہ کا مال عموماً اغنیاء کو بھی دیا جاتا ہے، حالاں کہ اس مال کا مصرف صرف فقراء اور مساکین ہیں۔

(4)….’’حیلہ اسقاط‘‘کا معاملہ عموماً تقسیم میراث سے پہلے ہوتا ہے، جس میں نابالغ ورثاء کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے، جن کی اجازت بھی معتبر نہیں۔

(5)….’’مروجہ حیلہ اسقاط‘‘لازم سمجھ کر کرلیا جاتا ہے، جو احداث فی الدین کے زمرے میں آتا ہے۔

(6)….آج کل’’مروجہ حیلہ اسقاط‘‘شہرت اور لوگوں کی طعن وتشنیع سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے،اور یہ ظاہر بات ہے کہ جن عبادات میں دنیاوی مقاصد غالب ہوں ،اس کا ثواب نہیں ملتا۔

لہٰذامروجہ حیلہ اسقاط مختلف مفاسد اور شرعی احکام سے ناواقفیت پر مبنی ہے، جس سے میت کو کچھ فائدہ نہیں ملتا ، اور کرنے والے بہت سے گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

لما في المرقاۃ:

ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيـــادة في صـــــــلاة الجنـــــازة.(کتاب الجنائز،(رقم الحدیث:1687)المشي بالجنازۃ والصلاۃ عليها،الفصل الثالث: 4/170،ط:رشیدية).وفي جامع الرموز:

(ثم یکبر ویسلم) من یمین وشمال بنية من ثمه إلا المیت غیر رافع صوته مثل سائر الصــلوات وســـن خفـــــض الثـــــانـــية ولایقوم داعیا له.(کتاب الصلوة،فصل في الجنائز:1/283،ط:سعید).

وفي البزازية:

لایقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنائز لأنه دعا مرۃً،لأن أکثرها دعاء.(کتاب الصلاۃ،الفصل الخامس والعشرون:في الجنائز:1/53، ط:دارالفکر).

وفي السراجية:

إذا فرغ من الصلاۃ لایقوم بالدعاء.(کتاب الصلاۃ،کتاب الجنائز،باب الصلاۃ علی الجنازۃ:133، ط:زمزم).

وفي التجنیس والمزید:

لایقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنـــازۃ؛لأنه دعــــاء مرۃً،لأن صلاۃ الجنازۃ أکثرها دعاء.

(کتاب الصلاۃ:3/271،ط:إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامية).

وفي خلاصة الفتاویٰ:

ولایقوم بالدعاء في قراءة القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃ وقبلها.(کتاب الصلاة:1/225،ط:امجد اکيدمی).

وفي البرجندي:

ولایقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ لأنه یشبه الزیادۃ فيها کذا في المحیط وعن ابي بکربن حامد أن الدعاء بعد صلوة الجنازة مکروه.(1/180،ط:المطبع العالي الواقع في اللکنؤ).

وفي الا عتصام:

عن عائشة-رضي الله عنها-عن النبي –صلی الله عليهوسلم-قال:’’من أحدث في أمرنا هذا مالیس منه فهو ردٌ‘‘.....عن إبن مسعود -رضي الله عنه-أن رسول الله–صلی الله عليه وسلم-قال:’’إیاكم ومحدثات الأمور،فإن شر الأمورمحدثاتها،وإن کل محدثة بدعة وإن کل بدعة ضلالة‘‘.

(باب:في ذم البدع وسوء منقلب أصحابها، ص:51،52،    ط:دار المعرفة)

وفي مرقاۃ المفاتیح:

ولا ینافي هذا ما تقرر في الفقه من ندب الإسرار لأن الجهر هنا للتعلیم لاغیرہ.(کتاب الجنائز،(رقم الحدیث:1655)المشي بالجنازۃ والصلاۃ عليها،الفصل الأول:4/142،ط:رشیدية).

وفي منة المنعم:

قوله: (سمعت النبي-صلی الله عليه وسلم-)دلیل على أن النبي-صلی الله عليه وسلم-جهر بالدعاء في الجنازۃ،ولایجري فيه التأویل الذي تأول به النووی قوله في الحدیث السابق: حفظت من دعائه،أي علمنيه بعد الصلاة فحفظته،لأن السماع لایحصل إلا إذا جهر.والظاهر أن الجهر والإسرار بالدعاء جائزان. (کتاب الجنائز،باب مایدعی به للمیت في الصلوٰة عليه :2/ 69،ط:دارالسلام)

وفي مجموعة رسائل ابن عابدین:

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله-صلی الله عليه وسلم-یقول:’’ماحق إمرئ مسلم تمر عليه ثلاث لیال إلا ووصیته عندہ‘‘.قال ابن عمر:فما مرت علی ثلاث قط إلا ووصیتي عندي.قال الطحطاوي في حاشیته علی ’’مراقي الفلاح‘‘:

اعلم أنه ورد النص في الصوم بإسقاطه بالفدية،واتفقت کلمة المشائخ علی أن الصلوۃ کالصوم استحساناً؛لکونها أھم منه ، وإنما الخلاف بینهم في أن صلاۃ یوم کصومه أو کل فریضة کصوم یوم،وهو المعتمد،إذا علمت تعلم جهل من یقول:إن إسقاط الصلاۃ لاأصل له؛إذ هذا إبطال للمتفق عليه بین أهل المذهب،وأن المراد بالصوم صوم رمضان،وصوم کفارۃ الیمین،وقتل، وظهار،وجناية علی إحرام وقتل محرم صیداً،وصوم منذور.

(الرسالة الثامنة،منه الجلیل ذیل شفاء العلیل: 1/368،369، ط:الأزهرية).

وفيه أیضاً:

ثم أقول:بیان الإسقاط،والکفارة، والفدية،وکونه بوصية من الشخص أولٰی من أن یفعله عنه وارثه تبرعاً........ودفع القیمة أفضل؛لأنها أنفع للفقراء إلا زمن الفاقة والقحـط- والعیاذ بالله-.ومما ینبغي التنبه له أن أیمان العمر لاتنضبط لکثرتها، فالواجب علی الشخص أن یکثر عند أداء الکفارۃ منها جداً.....ومما ینبغي الاحتراز عنه الاستفهام من الدافع للفقیر،فلا یقول الوصي للفقیر:قبلت هذه کفارة صلاة عن فلان؟....لأن هذا الکلام من باب التصدیق الإیجابي.....ویجب الاحتراز  من بقاء الصرة بید الفقیر أو الوصي بل کل مرۃ بصیر استلامها لکل منهما لیتم الدفع والهبة بالقبض والتسلیم في کل مرۃ....... ویجب الاحتراز أیضاً عن إحضار قاصر أو معتوه أو رقیق أو مدبراً؛.....ویجب الاحتراز أیضاً عن إحضار غني أو کافر......ویجب الاحتراز أیضاً عن جمع الصرة واستيهابها أو استقراضها من غیر مالكها،أو من أحد الشریکین بدون إذن الآخر.ویجب الا حتراز من التوکیل باستقراضها أو استيهابها إلا بوجه الرسالة،والا فبالإصالة کما علمت.ویجب الاحتراز من أن یدبرها أجنبي إلا بوکالة کما ذکرنا،أو أن یکون الوصي أو الوارث کما علمت.ویجب الاحتراز من أن یلاحظ الوصي عند دفع الصرۃ للفقیر الهزل أو الحیلة،بل یجب أن یدفعها عازما علی تملیكها منه حقیقة لاتحیلا،ملاحظاً أن یحترز عن کسر خاطر الفقیر بعد ذلک.بل     یــرضيـه بماتطيب بـه نفسه کما قدمناه،وبقي بعض محترزات ذکرها سیدي الوالد في ’’شفاء العلیل‘‘فعلیک بها. (الرسالةالثامنة،منةالجلیل ذیل شفاء العلیل:1/396،395،372،370 ،ط:رشیدية).

وفي التنویر مع الدر:

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث، ثم وثم حتى يتم.(کتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت:2/643،ط:رشیدية).

وفي الرد:

قوله:(وإنما يعطي من ثلث ماله) أي: فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة.

قوله:(ولو لم يترك مالا إلخ) أي: أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي......وأراد الولي التبرع ... وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ......فقال: لا يجب على الولي فعل الدور، وإن أوصى به الميت ؛لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه.(باب قضاء الفوائت،مطلب:في إسقاط الصلاۃ عن المیت: 2/644،ط:رشیدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/96