بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازوں کا فدیہ کب، کتنا، کس طرح اور کن اعذار کی بنا پر ادا کیا جاتا ہے؟

نمازوں کا فدیہ کب، کتنا، کس طرح اور کن اعذار کی بنا پر ادا کیا جاتا ہے؟

سوال

 نمازوں کا فدیہ کتنا اور کس طرح او رکن اعذار کی بنا پر ادا کیا جاتا ہے؟

جواب

ہر نماز کے فدیہ کی مقدار آدھا صاع (پونے دو کلو) گندم یا گندم کا آٹا یا ستو، یا ایک صاع( تقریباً ساڑھے تین کلو) کھجور یاکشمش یا جویا ان میں سے کسی ایک کی نقد قیمت ہے، اور نقد روپیہ دینا بہتر ہے تاکہ مستحق آدمی اپنی ضرورت کی چیز خود لے سکے، نیز دن کی پانچ نمازوں کے علاوہ وتر کی نماز کا فدیہ ادا کرنا بھی لازم ہے۔

زندگی میں کسی شخص کے لیے نمازوں کا فدیہ ادا کرنا شرعاً درست نہیں ہے، مرض الوفات میں فوت شدہ نمازیں اگر قضا نہ ہو سکیں اور حالات سے اندازہ ہو رہا ہو کہ اب نمازیں پوری نہ ہو سکیں گی، بلکہ اس سے پہلے موت واقع ہو جائے گی تو ایسی صورت میں فدیہ کی وصیت کرنا لازم ہے ، ورثہ میت کے تہائی مال سے فدیہ ادا کرنے کے پابند ہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی