بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نقد اور ادھار کا ریٹ الگ ہونے کا حکم؟

نقد اور ادھار کا ریٹ الگ ہونے کا حکم؟

سوال

کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کی کریانہ کی دکان ہے وہ نقد او راُدھار دونوں کرتا ہے گاہک کے ساتھ، تو کیا نقد اور ادھار کا ریٹ ایک ہونا چاہیے یا الگ الگ؟ جب کہ دکان دار کے پیسے بند ہو جاتے ہیں ، دکان دار ایک گاہک کو ( چینی) نقد 55 روپے پر دیتا ہے اور ادھار والے کو 57 روپے پردیتا ہے، تو کیا اس صورت میں یہ پیسہ لینا جائز ہے یا ناجائز ہے؟ دکان دار کو ( چینی) 54 روپے ریٹ ملتی اور وہ 55 روپے میں فروخت کرتا ہے، اب اس میں تھیلی اور اشاریہ کے حساب سے 10 یا 15 روپے کا گاہک کو اس ریٹ پر دینا چاہے تو اس کا نقصان ہے، اب کیا دکان دار گاہک کو اس ریٹ(55 روپے) سے زیادہ کا دینا چاہیے تو اس کے لیے کیا حکم ہے، مثلاً: چینی55 روپے کلو ہے اور وہ (15) روپے پاؤ دینا چاہتا ہے، تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

سوال نامہ میں ذکر کردہ خرید وفروخت کی تمام صورتیں ( کوئی چیز نقد بیچنے کی صورت میں کم قیمت اور اُدھار بیچنے کی صورت میں زیادہ قیمت پر بیچنا، ایک کلو لینے والے کے لیے پاؤ کی قیمت کم اور ایک پاؤ لینے والے کے لیے پاؤ کی قیمت زیادہ رکھنا) جائز ہیں، بشرطیکہ مجلسِ عقد ہی میں ایک صورت ( نقد یا اُدھار)، ایک دام ( کم یا زیادہ) او راُدھار کی صورت میں قیمت کی ادائیگی کی مدت کی تعیین کر لی جائے، نیز اگر اُدھار قیمت قسط وار ادا کرنی ہو تو مدت کے ساتھ ساتھ قسط کی مقدار کی بھی تعیین کر دی جائے ،و اضح رہے کہ کوئی چیز مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر بیچنا جائز تو ہے، لیکن خلاف مروّت ہے، لہٰذا ریٹنگ کے معاملے میں کافی احتیاط کرنی چاہیے، کیوں کہ اصل چیز کثرت نہیں بلکہ برکت ہے، او رتاجر کو سچائی اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی