بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل نماز کو جماعت کی صورت میں ادا کرنے کا حکم

نفل نماز کو جماعت کی صورت میں ادا کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نہ دیکھ کر ،نہ حفظ کی صورت میں قرأت قرآن پاک پر قادر ہے،تو یہ مذکورہ شخص نفل پڑھ سکتا ہے مقتدی بن کر،جب کہ دوسرا شخص سورہ بقرہ  پڑھ رہا ہے نفل کی نماز میں، تو پہلی رکعت کے درمیان میں اگر سورہ بقرۃ پڑھنے والے کی اقتداء کی جائے، تو ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ نفل کی جماعت کا اہتمام درست نہیں،کیونکہ جماعت کا تعلق ان نمازوں کے ساتھ ہے، جن کے متعلق شرعی حکم وارد ہوا ہے کہ ان کو جماعت کے ساتھ ادا کیا جائے،لہٰذا اگر بغیر تداعی (بغیر اہتمام) کے ایک ،یا  دو  افراد مل کر کبھی کبھار نوافل کو جماعت کے ساتھ ادا کرلیں،تو اس کی کسی حد تک گنجائش ہے، لیکن تداعی کے ساتھ جماعت کرنا مکروہ ہے۔

نیز اس شخص کے لیے مناسب ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت سیکھے اور ساتھ ہی ساتھ جتنا قرآن مجید یاد ہوتا جائے،اُسے نوافل میں پڑھے اس سے قرآن کریم یاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور نوافل کے پڑھنے کا بھی ثواب ملے گا۔

لمافي التنویر مع الدر:

لا(التطوع بجماعة خارج رمضان)أي:يكره ذلك على سبيل التداعي،بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر.

(کتاب الصلاة،باب صلاة التراویح:2/604،ط:رشیدیة).

وفي حاشیة إبن عابدین:

إن الجماعة في التطوع ليست بسنة إلا في قيام رمضان ا هـ.فإن نفي السنية لا يستلزم الكراهة، نعم إن كان مع المواظبة كان بدعة فيكره....... والنفل بالجماعة غير مستحب لانه لم تفعله الصحابة في غير رمضان ا هـ.وهو كالصريح في أنها كراهة تنزيه.(کتاب الصلاة:2/604،ط:رشیدیة).

وفي الهندیة:

التَّطَوُّعُ بِالْجَمَاعَةِ إذَا كان على سَبِيلِ التَّدَاعِي يُكْرَهُ وفي الْأَصْلِ لِلصَّدْرِ الشَّهِيدِ أَمَّا إذَا صَلَّوْا بِجَمَاعَةٍ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ في نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ لَا يُكْرَهُ وقال شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ إنْ كان سِوَى الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ لَا يُكْرَهُ بِالِاتِّفَاقِ وفي الْأَرْبَعِ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يُكْرَهُ هَكَذَا في الْخُلَاصَةِ.(کتاب الصلاة،الفصل الأول:في الجماعة:1/140، ط:دارالفکر).

(وکذا في خلاصة الفتاویٰ:کتاب الصلاة،مایتصل بصح الاقتداء مایکره ومالایکره:1،2/153،ط:رشیدیة) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:172/11