بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناپاک کپڑےکو دھوتے وقت اِدھر اُدھر پڑنے والی چھینٹوں کا حکم

ناپاک کپڑےکو دھوتے وقت اِدھر ادھر پڑنے والی چھینٹوں کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ناپاک کپڑوں کو دھوتے وقت جو چھینٹیں اِدھر اُدھر  کی چیزوں پڑتی ہیں ،  اس کیا وہ  چیزیں ناپاک ہوجاتی ہیں ؟ شریعت کی روشنی راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ ناپاک کپڑوں کی چھینٹیں بھی ناپاک ہیں، جس کپڑے یا بدن کے جس حصے کو لگیں ،تو اس کو بھی ناپاک کردیں گے،لہٰذا ناپاک کپڑا دھوتے ہوئے اگر اس کی ناپاک چھینٹیں پہنے ہوئے کپڑے پر یا بدن پر لگ جائیں،تو کپڑے یا بدن کا وہ حصہ بھی ناپاک ہوجائے گا،البتہ اگر پہلی دفعہ کا پانی کسی کپڑے میں لگ جائے،تو یہ کپڑا تین دفعہ دھونے سے پاک ہوگا اور اگر دوسری دفعہ کا پانی لگ جائے ،تو صرف دو دفعہ دھونے سے پاک ہوگا اور اگر تیسری دفعہ کا پانی لگ جائے ،تو ایک ہی دفعہ دھونے سے پاک ہوجائے گا،جیسا کہ بہشتی گوہر میں مذکور ہے۔

لما في الهندية:

 والمياه الثلاثة نجسة متفاوتة فالأول إذا أصاب شيئا يطهر بالثلاث والثاني بالمثنى والثالث بالواحد كذا في محيط السرخسي وهو الصحيح.(کتـاب الطهارة،الباب السابع:في النجاسة وأحکامها، 1/97، ط:دارالفکر).

وفي البدائع:

أما غسالة النجاسة الحقيقية…….فالمياه الثلاث نجسة…إن الماء الأول إذا أصاب ثوبا لا يطهر إلا بالعصر والغسل مرتين بعد العصر والماء الثاني يطهر بالغسل مرة بعد العصر والماء الثالث يطهر بالعصر لا غير.(کتاب الطهارة،فصل:في أحکام النجاسة،1/206،ط:رشيدية).

وفي تحفة الفقهاء:

وأما حكم غسلة النجاسة الحقيقية۔۔۔۔۔ والصحيح أن الأول يطهر بالغسل ثلاثا والثاني بالغسل مرتين والثالث بالغسل مرة.(کتاب الطهارة،باب المسح علی الخفین والجبائر،ص:44، ط:المكتبة الوحيدية).

وفي رد المحتار:

قال في الإمداد : والمياه الثلاثة متفاوتة في النجاسة،فالأولى يطهر ما أصابته بالغسل ثلاثا،والثانية بثنتين والثالثة بواحدة،وكذا الأواني الثلاثة التي غسل فيها واحدة بعد واحدة،وقيل يطهر الإناء الثالث بمجرد الإراقة والثاني بواحدة،والأول بثنتين اهـ .(کتاب الطهارة،مطلب:في حکم الوشم،1/596،ط:رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/129