بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نافرمان اولاد کے بارے میں مشورہ اور دعا

نافرمان اولاد کے بارے میں مشورہ اور دعا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا ایک بیٹا ہے او ربیٹی ہے، بیٹا میرا بڑا ہے، اس کی عمر 27 سال ہے، میرا بیٹا دین کی راہ سے بھٹک گیا ہے،16,15 سال کی عمر تک نماز پڑھتا تھا، مسجد بھی جاتا تھا، پھر اچانک سے اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ بالکل بدل گیا، ہر وقت لڑائی جھگڑے کرنے لگا، بری بری گالیاں دینے لگا ہے، چھوٹے، بڑے، ماں ،باپ، بہن، بھائی اور نانی، خالہ سب کا احترام کرنا چھوڑ دیا ہے، پہلے تو مہینوں یا ہفتوں میں ایسا ہوتا تھا، مگر اب روز کوئی نہ کوئی بہانہ مل جائے اسے اور وہ شروع ہو جائے، بس کوئی بات مزاج کے خلاف نہ ہو، پورا پورا دن لگا دیتا ہے جھگڑے میں، کھانا تک نہیں کھاتا، او رکسی سے لڑائی ہو جائے تو اسے معاف نہیں کرتا کہتا ہے کہ میں غلط نہیں ہوں اور نہ میں غلطی معاف کرتا ہوں، چاہے وہ بندہ کتنی بھی معافیاں مانگ لے، اتنا ضدی ہو گیا ہے کہ کچھ سننے سے پہلے چیخنا شروع کر دیتا ہے، میں اپنے بیٹے کے لیے بہت پریشان ہوں، مولانا صاحب! میں پانچ وقت کی نمازی ہوں جہاں کوئی دعا بتا دے یا وظیفہ مل جائے میں اسے پڑھ کر پھونک دیتی ہوں، آج کل کے لڑکوں میں جتنی برائیاں ہیں اور جتنی گندی عادتیں ہیں سب اس میں آگئی ہیں، مولانا صاحب! الله سے اس کے لیے دعا کریں۔ الله تعالیٰ میرے بچے پر رحم کرے، اس کا رنگ دن بدن ماند پڑتا جارہا ہے، میں بہت پریشان ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ میرے بیٹے کی دنیا بدل جائے، اس کے دل میں الله کا خوف اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبت بھر جائے۔ بڑوں کا احترام کرنے لگے، نمازی ہو جائے، گندی عادات او رگندی زبان کا استعمال چھوڑ دے، اس کے لہجے میں مٹھاس آجائے، میرا بیٹا اپنے برے رویے اور لہجے کی وجہ سے لوگوں سے دور ہوتا جارہا ہے، دوست ہوں یا رشتے دار۔ میرے بیٹے کا نام عمر ہے، اس کی دادی نے رکھا تھا اس کا نام، مولانا صاحب! الله آپ کو اجر دے، آپ اس کے لیے کوئی دعا یا وظیفہ بتا دیں اور اس کے لیے دعا بھی ضرور کرئیے گا، ایک ماں کی فریاد ہے یہ، میں آپ کو ساری عمر دعا دوں گی۔

جواب

سب سے پہلے حکمت وبصیرت کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی جائے، نماز کی اہمیت ، والدین کی اطاعت اورلڑائی جھگڑے کی نحوست کے بارے میں مسلسل ان کی ذہن سازی کی جائے، علماء اور صلحاء کی مجلسوں میں شرکت کی ترغیب دی جائے، اس کے ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے تبلیغ میں سہ روزہ کے لیے انہیں بھیج دیا جائے اور ساتھ ساتھ ان کی ہدایت کے لیے خشوع اور خضوع کے ساتھ دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، امید ہے کہ ان کی عادتیں بدل جائیں اور راہ راست پر آجائے، ہماری دعا ہے کہ الله تعالیٰ آپ کے بیٹے کو فرماں بردار بنا کر راہ راست پر لائیں، الله جل جلالہ اس کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔

اس کے ساتھ ہر نماز کے بعد اس آیت کو پڑھا کریں اور ﴿ذُرِّیَّتِی﴾ کی جگہ اپنے بیٹے ”عمر“ کا نام ذہن میں رکھیں: ﴿وَأَصْلِحْ لِی فِی ذُرِّیَّتِی إِنِّی تُبْتُ إِلَیْکَ وَإِنِّی مِنَ الْمُسْلِمِین﴾․(سورة الأحقاف، آیت:15)۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی