بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میراث میں بہنوں کو حق نہ دینا گناہ کبیرہ ہے

میراث میں بہنوں کو حق نہ دینا گناہ کبیرہ ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری قوم میں یہ رواج ہے ، اور ہمارے گھروں میں یہ رواج ہے  کہ جب والد صاحب  فوت ہوجائیں تو اس کا میراث ان کی بیٹیوں کو نہیں دیا جاتا بلکہ صرف بیٹے آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، اور ان کی بیٹیوں کو اس میں سے نہ ایک روپیہ دیتے ہیں نہ ان سے  ان کے بارے میں کوئی مشورہ طلب کرتے ہیں، اور اس کو معیوب سمجھتے ہیں کہ  بیٹیوں کا بھی کوئی حق ہے والد کے میراث میں، اور نہ ہی  ہمارے ہاں ان کو ایک روپیہ دیتے ہیں۔ تو آیا یہ میراث بیٹیوں کو نہ دینا گناہِ کبیرہ ہے یا نہیں؟ اور بیٹیوں کو میراث نہ دینے کے  بارے میں جو حکم ہو وہ بھی بتا دیں۔

۔

 

جواب

واضح رہے کہ  قرآن ِ کریم نے میراث کے باب میں ایسا قاعدہ کلیہ ذکر فرمایا ہے ، کہ جس نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو میراث کا مستحق بھی بنا دیا ہے ، اور ہر ایک کا حصّہ بھی مقرر کر دیا  اور یہ اصول معلوم ہوگیا کہ جب مرنے والے کی اولاد میں لڑکے اور لڑکیا ں دونوں ہوں تو ان کے حصّے میں جو مال آئے گا، وہ اس طرح تقسیم ہوگاکہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا مل جائے گا۔

قرآنِ مجید نے لڑکیوں کو حصّہ دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہےکہ لڑکیوں کے حصّہ کو اصل قرار  دے کر اس کے اعتبار سے  لڑکوں کا حصّہ بتلایا ، اور قرآن کریم کی اس آیتِ کریمہ(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ) نے بتلادیا کہ میراث کے جو حصّے  اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں،اس کو پورے اطمینان قلب کے ساتھ قبول کرنا چاہئے ، اس میں کسی کو رائے زنی یا کمی بیشی کا کوئی حق نہیں ہے،لہذا جو لوگ بہنوں کو حصّہ نہیں دیتے ، اس کو معیوب نہیں سمجھتے ہیں، یہ میراث دبانے والے سخت گناہگار ہیں، اس لئے اس رواج سے بچنا اور اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/43