بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میت کمیٹی بنانے کی شرعی حیثیت

میت کمیٹی بنانے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے ،ہمارے ہاں اکثر علاقوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے،وہ یہ ہے کہ ایک محلے میں اگر پانچ گھر ہیں،تو ان پانچ گھروں کے افراد مل کرایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں، جس میں ہر مہینے کے لیے ایک رقم مختص کی جاتی ہےکہ مثلاً ہرمہینے میں دو ہزار روپے فی گھر کی طرف سے جمع کیے جائیں گے،اس کمیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ اگر ان پانچ گھروں میں سے کسی گھر میں فوتگی ہوجائے تو باقی گھر والےاس جمع شدہ کمیٹی کی رقم میں سے خرچ کرتے ہیں،مثلاً قبر پر خرچ کرتے ہیں،دو ،تین دن تک فوتگی والے  گھر میں جو مہمان آتےہیں،ان کے اکرام کے لیےکھانے کا بندوبست وغیرہ اور دیگر ضروریات میں خرچ کرتے ہیں۔

اب مسئلہ حل طلب یہ ہے کہ اس طرح کمیٹی تشکیل دینا اور پیسے خرچ کرناکیسا ہے؟ اس کا کیا حکم ہے؟ جبکہ فوتگی کے گھر والوں کے پیسے بھی اس کمیٹی والی رقم میں شامل ہیں ،لہذا مہربانی فرماکراس مسئلے کا حل شریعت کی روشنی میں پیش فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ میت کمیٹی جس کی موجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میں مختلف صورتیں رائج ہیں،اور لوگ اس کمیٹی کو ضرورت سمجھ کر اس میں  مختلف قسم کے فنڈ اور چنده اہتمام سے جمع کرتے ہیں،جب کہ اس طرح کمیٹی بنانے کا ثبوت شریعت میں موجود نہیں ہے،اور نہ کوئی انسانی ضرورت اس طرح کی کمیٹی بنانے پر موقوف ہے،میت کمیٹی بنانے سے عام لوگوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کو تشکیل دینے  سے مصبیت کے وقت آسانی ہوگی،تو آسانی اور راحت کے بجائے ان کے لیے مشکل بن جاتی ہے، کیونکہ کسی کی فوتگی کے موقع پر اہل میت کے لئے بے جا تکلفات اور رسومات بجالانے کا سلسلہ شروع کیا جاتاہے،جیسے:بلاضرورت میت کو دوسر ی جگہ منتقل کرنا،قبر پختہ کرنا،تعزیت  کےموقع  پر آنے والو ں اور بعد میں آنے والوں کےلئے پر تکلف دعوت کرنا،اگرخود  اراکین  یا نگران کمیٹی اہل میت ہو،تو بدعات ،رسومات اور دعوتوں میں تکلفات کے علاوہ فضول خرچی کرنا،اس کے علاوہ اراکین اور شرکاء کمیٹی کامخصوص وقت میں مشترکہ مال میں اجتماعی دعوت  ہوتی ہے،جس میں بعض شرکاء کی طیب خاطر نہیں ہوتی،اور اس طرح کمیٹی بنانے میں رسم ورواج کا بڑا دخل ہے،جب کہ یہ سب کچھ قرآن و سنت کےخلاف ہے،لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔

میت کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لئے مستحب ہے کہ اہل میت کو اپنی استطاعت کے مطابق پہلے دن کھانا کھلانے کا انتظام کریں،جب کہ تین دن کھانا کھلانے کی بھی گنجائش ہے،لہذا اگر اہل میت غریب مسکین ہوں، توعزیز واقارب اور اہل ثروت لوگوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ تجہیز وتکفین کا خرچہ کرنے میں تعاون کریں،اور اس کام کی انجام دہی کے لئے الگ سے کمیٹی بنانا،جس میں ہر امیر اور غریب مقررہ وقت پر فنڈ میں چندہ جمع کرے گا،پھر کمیٹی فلاں فلاں کام انجام دے گی،اس کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے،بلکہ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ 

وفي مرقاة المفاتيح:

قال النبي أي لأهل بيت النبوة اصنعوا لآل جعفر طعاما أي يتقوتون به .....فقد أتاهم جعفر...... والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون قال الطيبي دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اه والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم وقيل يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية.

واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة بل صح عن جرير رضي الله عنه كنا نعده من النياحة وهو ظاهر في التحريم قال الغزالي ويكره الأكل منه قلت وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب وإلا فهو حرام بلا خلاف.

(كتاب الجنائز،باب البكاء على الميت،4/222،ط:رشيدية)

وفي مراقي الفلاح:

وتكره الضيافة من أهل الميت لأنها شرعت في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة.

(كتاب الصلاة،باب أحكام الجنائز،ص:617،ط:قديمي)

وفي النهر الفائق:

ولا بأس بالجلوس لها إلى ثلاث وكونه على باب الدار مع فرش بسط على قوارع الطريق من أقبح القبائح كذا في (التجنيس) وغيره.

(كتاب الصلوة،فصل في الصلوة على الميت،1/404،ط: رشيدية)

وفي الهندية:

ويكره الجلوس على باب الدار وما يصنع في بلاد العجم من فرش البسط والقيام على قوارع الطرق من أقبح القبائح كذا في الظهيرية وفي خزانة الفتاوى والجلوس للمصيبة ثلاثة أيام رخصة وتركه أحسن كذا في معراج الدراية....... ولا بأس بأن يتخذ لأهل الميت طعام كذا في التبيين ولا يباح اتخاذ الضيافة عند ثلاثة أيام كذا في التتارخانية.

(كتاب الصلوة،1/228،ط:دارالفكر)

وفي تنقيح الحامدية:

        كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أوأمر ووجوبه فهو مكروه.

(مسائل وفوائد شتى من الحظروالأباحة،2/361،ط:رشيدية)

وفي مرقاة المفاتيح:

وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»أي:بأمر أورضا.(كتاب البيوع،باب الغصب والعارية،رقم الحديث:2946، 6/149،ط:رشيدية)

وفي الإعتصام للأمام الشاطبي:

وبالجملة ، فكل عمل أصله ثابت شرعاً إلا أن في إظهار العمل به والمداومة عليه ما يخاف أن يعتقد أنه سنة ، فتركه مطلوب في الجملة أيضاً.

(باب في أحكام البدع والحقيقة والإضافة والفرق بينهما،ص:328،ط:دارالمعرفة) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/306