بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میاں بیوی کی ناچاقی کو دور کرنے کا شرعی طریق

نمازوں کا فدیہ کب، کتنا، کس طرح اور کن اعذار کی بنا پر ادا کیا جاتا ہے؟

سوال

کیا فرماتے، مفتیان ِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی شادی قریباً سات آٹھ سال پہلے ہوئی ہے اور تا حال اولاد سے بھی محروم ہے، شادی سے قبل ہی وہ بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم تھا اور پھر بعد زواج بھی تقریباً چھ سال وہیں رہا اور کمپنی قوانین کے مطابق باقاعدگی کے ساتھ ہر چھ ہفتہ کے بعد 20 دن کی چھٹی پر گھر آتا تھا، اب آٹھ نو ماہ قبل کنٹریکٹ ختم ہونے پر مستقل پاکستان واپس آچکا ہے۔

مذکورہ شخص کی ازدواجی زندگی تقریباً ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار رہی، سبب بیوی کا تیز مزاج ہونا۔ پہلے یہ شکایت رہی کہ خاوند ملک میں نہیں ہوتا، اکثر وقت میکے میں ہی گزارتی اور خاوند کے چھٹی آنے پر ہی گھر آیا کرتی۔ اور دوران تعطیلات بھی گھر کا ماحول ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار رہتا، وجہ بیوی کی خاوند کے ساتھ زبان درازی۔

اب جب کہ وہ مستقل طور پر پاکستان واپس آچکا ہے تو بھی روزانہ کی بنیاد پر یہی تکرار کہ بچے نہیں ہیں تو میں گھر میں کیا کروں، کبھی فرمائش کہ نوکری کی اجازت دے دیں، یا پھر ہر ہفتہ میکے جانے کی فرمائش، اور پھر دو دو دن حیلے بہانوں سے وہاں ٹھہرے رہنا۔

اب قریباً پانچ ماہ سے زائد وقت گذرا ہے کہ بیوی میکے میں ہے اور فرمائش ہے کہ الگ گھر لے کر دو گے، میں ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی، یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ والد مرحوم نے شروع ہی سے تینوں بیٹوں کو شادی کے بعد الگ منزل دے دی تھی کہ اپنی زندگی کو خود دیکھو، اور مذکورہ بھائی کو بھی اوپر والی منزل سیٹ کرکے الگ کردیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کی ازدواجی زندگی ابتری کا شکار ہے،کہ بیوی کوئی کام وقت پر نہیں کرتی، ایک مثال کہ شوہر کا اپنے کپڑے دھوبی سے دھلوانا،کھانا دو دن کا ایک ہی دفعہ میں بنا دینا اور دن کا بیشتر حصہ سو کر گزارنا وغیرہ۔

اس تمام عرصہ میں شوہر نے والد مرحوم کی وساطت سے بیوی کے والد سے یہ معاملات ان کے گوش گذار کیے اور حتیٰ کے والد صاحب کی وفات کے بعد بھی کئی بار ذاتی طور پر بیوی کے والد سے اس شکایت کے ازالہ کے لیے درخواست کی کہ کچھ کریں، تو ہر بار یہی جواب ملا کہ سمجھا رہے ہیں، اور اب کی بار تو یہ جواب ملا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، بس انتظار کر رہے ہیں۔

شوہر سے بات کی کہ اس طرح کب تک چلے گا، تم ہی کوئی فیصلہ کرو، تو وہ کہتا ہے کہ جب تک بیوی کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آئے گا تو میں خود سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں دوں گا کہ میں نے کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں کی اور یہ ظلم میں نہیں کرسکتا اور آخرت میں میں جواب دہ ہوں، جبکہ بیوی کہتی ہے کہ خاوند خود فیصلہ دے۔

حضرت! اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دونوں کا معاملہ کو طول دینا اور ایک دوسرے کا انتظار کرنا کہ وہ پہل کرے اور اس طرح اکیلے زندگی گزارنا ،کیا یہ صحیح ہے؟براہِ مہربانی دینی تعلیمات کی روشنی میں راہنمائی درکار ہے۔

جواب

ازدواجی زندگی الله تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے، اس کو جتنا ممکن ہو سکے نبھانا چاہیے، اس میں میاں بیوی دونوں کے ایک دوسرے سے حقوق متعلق ہوتے ہیں مثلاً: شوہر پر مہر، رہائش کے لیے ایک کمرہ، یا مکان، نان ونفقہ دینا، نرمی کا برتاؤ کرنا اور اچھے اخلاق سے پیش آنا لازم ہے، جب تک یہ ممکن ہو، دوسری طرف بیوی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی فرماں برداری کرے، زبان درازی نہ کرے، خلوص دل سے اس کی خدمت کرے او رگھر بار کا خیال رکھے، جب دونوں طرف سے حقوق کی پاس داری ہو گی، تو یہ رشتہ خوش گوار اور قائم رہے گا، کبھی ناچاقیاں ہو جاتی ہیں، تو گھر والوں کو خیر خواہی اور ہم دردی سے کام لینا چاہیے، ایسی روش اختیار نہیں کرنی چاہیے جس سے بات اور آگے بڑھ جائے۔

صورت مسئولہ میں بیوی سے متعلق آپ کی ذکر کردہ باتیں اگر حقیقت پر مبنی ہیں، تو عورت ان حرکات کی وجہ سے ناشزہ (نافرمان) ہے، پھر بھی آپ حضرات کوشوہر کو کسی فیصلے یعنی طلاق وغیرہ پر مجبور نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی دخل اندازی کا حق بنتا ہے، خصوصاً جبکہ وہ بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، لہٰذاشوہر کو چاہیے کہ خود جاکر بیوی کو راضی کرے اور نرمی کے ساتھ سمجھائے اور گھر لے آئے، اگر وہ گھر آنے سے انکار کرے ، تو مندرجہ ذیل تجویز پر عمل کرے:

اپنے خاندان میں کوئی خیر خواہ شخص جس کی بات سب دل سے مانتے ہیں، اس کے واسطے سے صلح کریں ،جس میں میاں بیوی دونوں کے حقوق کی رعایت ہو، امید ہے اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی