بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق

میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بار ے میں کہ بیوی کے حقوق اور ذمہ داریوں اور شوہر کے حقوق اور ذمہ داریوں پر قرآن وسنت کی روشنی میں میرے سوالوں کا جواب دیں، میں آپ کی شکر گزار رہوں گی۔

1..کیا اس لڑکی (یعنی بیوی) کو(شوہر کے) ماں باپ بہن بھائی کی خدمت کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ اس کی (بیوی) ذمہ داری ہے؟
2..کیا وہ ایک نوکرانی کی حیثیت سے اس گھر میں زندگی گزارے اور اگر کوئی بات اس کی ماں بہن کو پسند نہیں آئے، تو وہ ناراض ہو جائیں اور شوہر بیوی کو حکم دے کہ پاؤں پکڑ کر معافی مانگو، ورنہ وہ اسے طلاق دے دے گا۔
3..کیا بیوی شوہر کے بچوں کو دودھ پلانے او ران کی پرورش کرنے کی ذمہ دار ہے یا یہ اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے؟ ماں کی خدمت اگر وہ خود نہیں کرسکتے تو ان کے لیے نوکرانی رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے یا بیوی نوکرانی بن کر ان کی خدمت کرے؟
4..شوہر ماں اور بہنوں کے سکھائے پر چلتا ہے اور بیوی پر سختی کرتا ہے ۔اس صورت حال میں بیوی شوہر سے الگ گھر لے کررہنے کا مطالبہ کر سکتی ہے ؟تاکہ دونوں کی زندگی سکون سے گزرے۔

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ کی نظر میں نکاح کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان قائم شدہ تعلقات کو بہت اہمیت حاصل ہے اور شریعت میں اس ازدواجی تعلق کو قائم رکھنے کے لیے جامع او رمکمل نظام موجود ہے ،میاں بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر بہت سارے حقوق ہیں، ان کی پاس داری دونوں پر ضروری ہے، ورنہ اس کے بارے میں ان سے پوچھ ہو گی، اب سوالات کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔
1..بیوی کا اپنی خوشی سے شوہر کے والدین کی خدمت کرنا بہت اچھی اور موجب سعادت بات ہے، نیز بیوی کااخلاقی فرض ہے کہ اپنے والدین کی طرح شوہر کے والدین کی بھی عزت واحترام کرے، لیکن یہ اخلاقی فرض ہے قانون نہیں، لہٰذا شوہر بیوی کو اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔
2..بیوی شوہر کے گھر میں نوکرانی کی حیثیت سے زندگی نہیں گزارے گی، بلکہ ساس سسر کو چاہیے کہ وہ بہو کو اپنی بیٹی سے بھی بڑھ کر عزت دیں اور یہ لڑکی اپنے والدین کی طرح ان کی خدمت کرے اور خوش اخلاقی سے پیش آئے تو نہ لڑائی جھگڑے کی صورت بنے گی، نہ طلاق کی نوبت آئے گی، بلکہ گھر جنت نظیر بن جائے گا۔
3..بچے صرف شوہر کے نہیں، بلکہ بیوی کے بھی بچے ہیں، دیانةً دودھ پلانا ماں کے ذمہ واجب ہے ، بغیر شدید عذر کے انکار کرنا جائز نہیں۔
4..ماں باپ یا بہن بھائی کے کہنے پر بیوی پر سختی کرنا درست نہیں، بلکہ ظلم ہے، شرعاً شوہر اپنی وسعت کے بقدر بیوی کے رہن سہن کے لیے الگ کمرہ کا انتظام کرے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی