بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میاں بیوی میں نباہ کسی بھی طرح ممکن نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

میاں بیوی میں نباہ کسی بھی طرح ممکن نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ2007ء میں کیا ۔گھریلو ناچاقی کی وجہ سے بچی زیادہ عرصہ میرے ہاں رہی۔ میری بچی کے ہاں چار بچوں کی ولادت ہوئی سارے اخراجات ہسپتال کے میں نے خود برداشت کیے۔ پہلا بچہ پیدائش کے بعد انتقال کر گیا۔ باقی تینوں بچے الحمدلله موجود ہیں۔

شادی کے وقت بچی کا حق مہر اڑھائی تولہ سونے کا زیو رتھا جو کہ میرے دامادنے بیچ کر کھا لیا ہے۔ جب کہ جہیز کا سامان جو میں نے بچی کو دیا تھا۔ جس کی مالیت تقریباً سوالاکھ بنتی ہے۔ اس میں سے بھی زیادہ تر سامان میرا دامادبیچ کر کھا گیا ہے۔ اب میں اپنی بیٹی اور نواسوں کا خرچہ عرصہ دراز سے خود برداشت کر رہا ہوں۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ فیصلہ ہو گا، نباہ قطعا ممکن نہیں ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شرعا فیصلہ کیا ہونا چاہیے۔ شریعت کی رو سے فتویٰ عنایت فرمائیں۔

جواب

میاں بیوی کارشتہ ایک نہایت ہی عظیم رشتہ ہے، نکاح کے بندھن میں بندھ جانے سے جہاں عورت کے ذمہ کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اسی طرح مرد پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اگر میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تو گھر بہشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے اور دونوں کی زندگی نہایت ہی پرسکون گزرتی ہے۔ خدانخواستہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو پورا گھر نفرتوں، لڑائیوں او رفساد کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

تو ایسی صورت میں دونوں خاندانوں کے بزرگ حضرات (لڑکے کے خاندان والے بھی اور لڑکی کے خاندان والے بھی) مل کر بیٹھیں او رحتی الامکان نباہ کی کوشش کریں، الله تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ جب دونوں فریقین منصف بن کر اصلاح کی نیت سے کوشش کریں گے تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

شوہر پر بیوی کا نفقہ بقدر استطاعت واجب ہے ، اب اگر شوہر بیوی کو نہ گھر میں رکھتا ہے اور نہ ہی نان ونفقہ دیتا ہے اور نہ ہی دیگر حقوق ادا کرتا ہے تو ایسی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کو مال کا لالچ دے کر اس سے خلع حاصل کرلے یا کسی ذریعہ سے شوہر پر دباؤ ڈال کر طلاق حاصل کر لی جائے۔ او رجہاں تک نفقہ وغیرہ کا تعلق ہے وہ خرچہ جو کے والد نے اپنی بیٹی وغیرہ پر کیا ہے اگر عقد میں نفقہ مقرر کیا گیا ہو ( مثلاً ہر ماہ شوہر بطور نفقہ ہزار روپے دے گا وغیرہ) یا بعد میں فریقین کی باہمی رضا مندی سے یا عدالت کے فیصلے سے مقرر کیا ہو، تب تو گزرے ہوئے ایام کا خرچہ شوہر کے ذمہ لازم ہے، ورنہ نہیں، نیز بچوں کی ولادت پر کیا گیا خرچہ بھی شوہر پر دینا لازم نہیں، البتہ آئندہ کے لیے شوہر پر بیوی کو نفقہ دینا لازم ہو گا۔فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی