بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مکاتب و مدارس میں اساتذہ طلبہ کو کس حد تک مار سکتے ہیں

مکاتب و مدارس میں اساتذہ طلبہ کو کس حد تک مار سکتے ہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اساتذہ کرام کا   مکاتب و مدارس میں  طلبہ و بچوں کی  پٹائی کرنا  کیسا ہے ؟ کس حد تک کر سکتے ہیں برائے  تنبیہ  ؟ شرعی اعتبار سے راہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

جواب 

  واضح رہے کہ  تعلیم و تربیت کے حوالے سے استاد کسی غفلت  اور کوتاہی  پر  طالب علم  کی تادیباً پٹائی کرسکتا ہے،لیکن اس بارے میں اوّلاً زبانی تنبیہ  ہونی چاہیے اور اگر اس پر بھی نہ مانے  تو غفلت اور کوتاہی کی نوعیت اور طالب علم کی طبیعت ،تحّمل اور برداشت کے مناسب کوئی سزا دی جاسکتی ہے، البتہ اس بارے میں سزا کی دیگر حدود و شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے  ان میں سے چند شرائط مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ تین ضرب سے زیادہ نہ مارے ۔

۲۔ چہرے اور اس جیسے نازک اعضاء پر نہ مارے۔

۳۔ بچہ اس ضرب اور سزا کا متحمل ہو۔

۴۔ استاد کی ضرب اور پٹائی سے مقصود بچے کی اصلاح و تربیت ہو ۔

۵۔ ضرب اور پٹائی  ذاتی غرض اور غصّہ کی وجہ سے نہ ہو۔

۶۔ ضرب اور پٹائی لکڑی سے نہ ہو۔

لہذا  مذکورہ بالا  شرائط میں  سے اگر کوئی شرط  مفقود ہوجائے ،تو یہ ضرب اور پٹائی درست نہیں  ہوگی۔

لما في الرد:

قوله ( بيد ) أي ولا يجاوز الثلاث وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها . قال عليه الصلاة والسلام لمرداس المعلم

" إياك أن تضرب فوق الثلاث فإنك إذا ضربت فوق الثلاث قتص لله منك" ا هـ ....... قوله ( لا بخشبة ) أي عصا ومقتضى قوله بيد أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط أفاده ط  قوله ( لحديث الخ ) استدلال على الضرب المطلق وأما كونه لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية المكلف ا ه    (كتاب الصلاة،27،رشيدية)

وفي سنن أبي داؤد:

عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ ».(كتاب الحدود،باب في التعزير:رقم الحديث:4493،دارالسلام)

وفي البحرالرائق:

فهذا تنصيص على عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمره بخلاف المعلم لأن المأمور بضربه نيابة عن الأب لمصلحته والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة العلم. (كتاب الحدود، باب حد القذف،583،رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/316