بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی وعدہ نکاح ہے

منگنی وعدہ نکاح ہے 

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

زید اور عمرو   دو بھائی ہیں ، زید نے اپنے بیٹے کا نکاح عمرو کی بیٹی سے مقرر مہر کے عوض کردیا،یہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ تھے،اس کے بعد دونوں بھائیوں نے اپنے بیٹے اور بیٹے کا ایک دوسرے سے وٹا سٹا کیا ،یعنی کہ نام کر دیا،نکاح وغیرہ نہیں ہوا،جب زید کا بیٹا بالغ ہوا  تو اس نے اس لڑکی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا ، اور زید نے اپنی بیٹی بھی اپنے بھتیجے کو دینے سے انکار کر دیا، اس کی وجہ سے اب عمرو  زید کے اس بیٹے کو بیٹی سے منع کرتا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا بچپن میں کیا ہو ا رشتہ نکلاح ہوتا ہے؟

اور عمرو کا  سب لوگوں کو رشتہ  دینے سے منع کرنا جائز ہے ، یا نہیں؟

جواب

      صورت مسئولہ میں  بچپن میں صرف نام پر کیا ہوا    رشتہ نکاح نہیں ہوتا ہے ، بلکہ وہ وعدہ نکاح ہے  اور وعدہ کی خلاف ورزی گناہ ہے،لہذا  اورنگ کا لوگوں کو رشتہ دینے سے روکنا جائز اور  درست نہیں ہے۔

لما في البحر:

لو قال هل أعطيتنها(أعطيتنيها) فقال أعطيتك إن كان المجلس للوعد فوعد وإن كان للعقد فنكاح.

(كتاب النكاح:3/147،رشيدية)

و في فتح القدير:

في شرح الطحاوي لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد وإن كان للعقد فنكاح.

(كتاب النكاح:3/183،دار الكتب العلمية)  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/225