بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منڈی تک فروٹ لے جانے کے دوران خرابی کا تاوان ڈرائیور سے لینا

منڈی تک فروٹ لے جانے کے دوران خرابی کا تاوان ڈرائیور سے لینا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ واناوزیرستان سے ایک شخص گاڑی والے کوسیب دیتا ہے کہ اسے خراب ہونے سے پہلے اسلام آباد فروٹ منڈی میں بولی کے لیے پہنچانا ہے، اگر پہنچا دیا تو کرایہ ملے گا( جو عام کرایوں سے زیادہ ہوتا ہے) او راگر خدانخواستہ سیب خراب ہو گیا (سارا کا سارا خراب ہو گیا یا کچھ) تو اس کے بقدر وہ تاوان ادا کرنے کا ضامن ہوگا ، اس معاملے کے لیے اکثر گاڑی والے تیار نہیں ہوتے، لیکن کچھ تیار ہو جاتے ہیں اور وہاں اس طرح معاملہ کرنا ایک معمول بن گیا ہے، سیب کا مالک ضمان کی شرط لگائے بغیر مال دینے کو تیار نہیں ہوتا۔

اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے یانہیں؟ اگر ہوگیا ہے تو سیب خراب ہونے کی صورت میں کرایہ اور ضمان وصول کرنے کا کیا حکم ہے؟ وصول کیے گئے کرائے اورضمان کا کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ معاملہ دو وجہوں سے ناجائز ہے1.. اُجرت کو موہوم چیز کے ساتھ معلق کرنا (کہ پھل خراب ہونے کا کوئی پتہ نہیں) اور یہ قمار کے حکم میں ہے۔ 2..اجارہ میں مقتضی عقد کے خلاف شرط لگانا(کہ اجیر خاص یعنی ڈرائیور سیب خراب ہونے کا ذمہ دار ہو گا) اور یہ شرط اجارہ کو فاسد کر دیتی ہے، لہٰذا مذکورہ دونوں وجہوں کی وجہ سے ذکر کردہ عقد درست نہیں، اگر کسی نے کر لیا ہے تو سیب خراب ہونے کی صورت میں ڈرائیور ضامن نہیں ہو گا اور ڈرائیور کو اُجرت مثل(عام کرایہ جو رائج ہو) ملے گی اور اگر کسی مالک نے ضمان وصول کیا ہے تو اس پر ضمان کو واپس کرنا لازم ہے اور ڈرائیور کو اُجرت مثل دینا بھی ضروری ہے، اسی طرح اگر ڈرائیور نے بھی اُجرت مثل سے زیادہ کرایہ لیا ہو تو اضافی رقم مالک کو واپس کرے، ڈرائیور کے لیے اضافی رقم استعمال کرنا ٹھیک نہیں، البتہ اُجرت مثل کی حد تک لیا گیا کرایہ درست ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی