بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مملوکہ زمین میں خزانہ ودفینہ کی ملکیت کا حکم

مملوکہ زمین میں خزانہ ودفینہ کی ملکیت کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مملوکہ زمین میں خزانہ اور دفینہ کس کی ملکیت ہے، پانے والے کی یا مالک کی؟

جواب

واضح رہے کہ دارالاسلام میں مملوکہ زمین میں سے خزانہ و دفینہ برآمد ہو تو اس پر موجود علامات کو دیکھا جائے، اگر اس پراسلامی علامات وغیرہ ہوں تو وہ لقطہ کے حکم میں ہو گا، پانے والے یا مالک زمین دونوں میں سے کسی کی بھی ملکیت اس میں متحقق نہ ہو گی اور نہ ہی اس سے خمس نکالا جائے گا، کیوں کہ وہ کسی مسلمان کا مال ہے اور مسلمان کے مال کو غنیمت نہیں بنایا جاتا، لہٰذا اس میں خمس وغیرہ کچھ واجب نہ ہو گا، الا یہ کہ مالک زمین دعوی کرے کہ یہ میرا ہی دفینہ ہے، ہم ہی نے دفنایا تھا، تو اس صورت میں مالکِ زمین کی ملکیت ہو گا۔

اور اگر اس پر علامات کفر وغیرہ پائی جارہی ہوں تو پھر اس میں سے خمس نکالا جائے گا، جب کہ بقیہ چار حصے ظاہر المذہب کے مطابق فتح کے وقت خلیفة المسلمین نے جس شخص کو اس زمین کا مالک بنایا تھا اس کو ملیں گے، اور اگر وہ نہ ہو تو پھر اس کے ورثاء کو ملیں گے، اور اگر ان کا بھی علم نہ ہو تو پھر بقیہ چار حصے بیت المال میں جمع کرائے جائیں گے، لیکن چوں کہ اس زمانہ میں بیت المال وغیرہ کا نظام نہیں ہے، اس لیے فتویٰ امام ابویوسف رحمہ الله کے قول پر دیا گیا ہے کہ بقیہ چار حصے واجد (یعنی اس خزانہ کو پانے والے ) کو دیے جائیں گے۔

او راگر اس پر کسی بھی طرح کی علامات وغیرہ نہ ہوں جن سے اس کی تعیین کی جاسکے، تو اس صورت میں وہ مسلمان ہی کا شمار کیا جائے گا، مال ِ غنیمت کا حکم اس پر نہیں لگایا جائے گا، کیوں کہ اسلام اب طویل العہد ہو چکا ہے، لہٰذا اس کے ساتھ بھی لقطہ والا معاملہ کیا جائے گا اور خمس بھی نہیں نکالا جائے گا، اور اگر مالک ِ زمین دعویٰ کرے کہ یہ میرا ہی دفینہ ہے، ہم ہی نے دفنایا تھا، تو اس صورت میں مالک ِ زمین کی ملکیت ہو گا۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی