بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مغصوبہ چیز کے منافع استعمال کرنے کی وجہ سے غاصب پر ضمان ہو گا یا نہیں؟

مغصوبہ چیز کے منافع استعمال کرنے کی وجہ سے غاصب پر ضمان ہو گا یا نہیں؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی سے کوئی قیمتی چیز غصب کی اور اس کے بعد کافی عرصہ تک اسے استعمال کرتا رہا، اس کے بعد اس نے اس مغصوبہ چیز کی قیمت مغصوب منہ کو ادا کر دی، اب پوچھنا یہ ہے کہ اتنے عرصہ اس نے وہ چیز استعمال کی ہے وہ استعمال درست ہو جائے گا؟ اور اس سے جو منافع حاصل کیے ہیں ان منافع کا استعمال اس کے لیے درست ہو گا؟ تفصیلی جواب چاہیے۔

جواب

واضح رہے کہ جب کسی شخص نے کوئی چیز غصب کر لی، تو اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک مغصوبہ چیز باقی ہو، تو بعینہ اسی چیز کا واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، یعنی مغصوبہ چیز کے ہوتے ہوئے قیمت دینا کافی نہیں ہو گا، الایہ کہ مالک کی رضا مندی سے ہو، البتہ اگر مغصوبہ چیز ہلاک ہو جائے تو پھر اگر مغصوبہ چیز ذواتِ مثل میں سے ہو تو مثل دینا ضروری ہو گا، ورنہ قیمت دینی پڑے گی۔ باقی رہا کہ غاصب کے لیے منافع کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ تو اس میں قدرے تفصیل ہے: وہ یہ کہ بعض منافع ایسے ہوتے ہیں جو عین کی شکل میں باقی نہیں رہتے، مثلاً: غاصب نے مغصوبہ گاڑی کو ایک ماہ تک خود استعمال کرکے فائدہ حاصل کیا، ان منافع کا حکم یہ ہے کہ غاصب پر ان کا ضمان نہیں ہو گا، یعنی ایک ماہ کا کرایہ وغیرہ نہیں دینا پڑ ے گا، صرف مغصوبہ گاڑی واپس کرنا پڑے گی، الایہ کہ استعمال کی وجہ سے گاڑی کا اگر کوئی نقصان ہو جائے، تو اس نقصان کا ضامن ہو گا۔ اور بعض منافع ایسے ہوتے ہیں جو عین کی شکل میں باقی رہتے ہیں اور وہ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو مغصوبہ چیز کی عین سے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً :مغصوبہ چیز گائے تھی اور اس نے غاصب کے پاس بچہ جَن دیا، اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بچہ غاصب کے پاس امانت کے حکم میں ہو گا، لہٰذا اگر غاصب کے فعل سے ہلاک ہو گیا یا مالک کے مطالبہ پر غاصب نے دینے سے انکار کر دیا تو اس پر ضمان آئے گا ،ورنہ ضامن نہیں ہو گا، یا وہ گائے غاصب کے پاس بہت موٹی تازہ ہو گئی، جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں زیادتی ہو گئی، تو یہ زیادتی بھی غاصب کے پاس امانت کے حکم میں ہو گی، لہٰذا اگر گائے غاصب کے پاس ہلاک ہو گئی تو غاصب گائے کی اصل قیمت کا ضامن ہو گا، زیادتی والی قیمت کا ضامن نہیں ہو گا، لیکن جب عین گائے مالک کو لوٹائے گا تو زیادتی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ دوسرے منافع وہ ہوتے ہیں جو مغصوبہ چیز کی ذات سے حاصل نہیں ہوتے، بلکہ مغصوبہ چیز کو استعمال کرکے حاصل کیے جاتے ہیں، لیکن عین کی شکل میں باقی رہتے ہیں، مثلاً :غاصب نے مغصوبہ گاڑی کو کرایہ پر دے کر اس سے منافع حاصل کیے، ان منافع کا حکم یہ ہے کہ غاصب ان منافع کا مالک تو بن جاتا ہے، لیکن سبب خبیث ہونے کی وجہ سے ملک بھی خبیث ہوتی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ ایسے منافع واجب التصدق ہوتے ہیں، البتہ اگر مغصوبہ چیز کے ساتھ منافع بھی مالک کو لوٹا دیے تو بریٴ الذمہ ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی