بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

معذور کی تعریف اور اس کا حکم

معذور کی تعریف اور اس کا حکم

سوال

بندہ کو گزشتہ ایک سال سے پیشاب کے بعد کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں، اندازاً10منٹ تک، اس کے علاوہ عام اوقات میں اگر شرم گاہ پر شلوار کے کپڑے کو دبایا جائے تو معمولی سا قطرہ موجود ہوتا ہے، معمولی دبانے سے قطرہ ظاہر نہیں ہوتا، خوب اچھی طرح دبانے پر معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی ہر بار نہیں، بلکہ جتنی بار چیک کروں اس میں اوسطاً نصف مرتبہ قطرہ موجود ہوتا ہے۔

جواب طلب امر یہ ہے کہ ایسی کیفیت میں، میں معذور شمار ہوں گا؟ واضح رہے کہ بندہ قید میں ہے اور بیت الخلا دوسری جگہ ہے، ہر بار حاجت کے لیے جانے پر کسی کو بلانا پڑتا ہے جو لے کر جائے اور کئی لوگوں کا ایک ہی مشترکہ بیت الخلا ہے اور نمازکے اوقات میں سب کو باری باری جانا ہوتا ہے، لہٰذا وقت کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔

میرا معمول یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد کم از کم 10 منٹ تک انتظار کرتا ہوں، جب قطرے آنا بند ہو جائیں تب وضو کرتا ہوں، نماز کے لیے شلوار تبدیل کرتا ہوں اور استنجا بھی کرتا ہوں اور ہر نماز کے لیے وضو کرتا ہوں اور شلوار کو بھی دھوتا ہوں۔
1..سوال یہ ہے کہ ایک وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھ سکتا ہوں؟ مثلاً عصر ومغرب، یا تہجد کے لیے کیے گئے وضو سے فجر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے؟
2..ہر بار شلوار دھونا اور استنجاء کرنا ضروری ہے؟ جب کہ پیشاب نہ کیا ہو، استنجا کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قطرے آرہے ہیں ،جب کہ جسم خشک ہونے کے بعد نہ شلوار میں کوئی اثر نظر آتا ہے نہ محسوس ہوتا ہے، اسی طرح استنجا سے پہلے بھی قطرے نہ موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی محسوس ہوتے ہیں، ایسے میں جس شلوار میں صرف استنجا کیا ہو اس کو ہر بار نماز سے قبل دھونا ہو گا؟ میرا گمان یہ ہے کہ یہ صرف وسوسہ ہے، لیکن تصدیق چاہتا ہوں ۔از راہ کرم جواب مرحمت فرمائیں، الله پاک اجر عظیم عطا فرمائے اور شفا کے لیے دعا کی بھی درخواست ہے، نیز قضا نمازیں بھی اسی دوران پڑھ سکتا ہوں؟

جواب 

1..واضح رہے کہ آپ اپنی بیان کردہ صورت حال میں شرعاً معذور نہیں کہلا سکتے، اس لیے کہ شرعاً وہ شخص معذور کہلاتا ہے جو سلسل البول وغیرہ کی بیماری میں مبتلا ہو اور اسے کسی بھی فرض نماز کے پورے وقت میں سے اتنا وقت بھی عذرلاحق ہوئے بغیر نہ ملتا ہو، کہ جس میں وہ پاکی حاصل کرکے نماز ادا کرسکے، لہٰذا آپ پیشاب کرنے کے بعد اہتمام سے قطرے خشک کر لیا کریں، یہاں تک کہ قطروں کے خشک ہونے کا یقین ہو جائے، ہوسکے تو ٹشو پیپر کا استعمال کریں، تب وضو کرکے نماز ادا کر لی جائے، اس کے بعد محض وسوسے کی بنا پر (جب کہ کپڑے پر قطروں کے آثار نہ ہوں) وضو نہیں ٹوٹتا اور شلوار ناپاک نہیں ہوتی۔

2..قطرے نہ نکلیں تو ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی