بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مطلقہ عورت کے اخراجات کا حکم

مطلقہ عورت کے اخراجات کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے شادی کی اور بچہ بھی ہو گیا اس کے بعد باہمی ناراضگی کی بنا پر شوہر نے اپنی بیوی کو بچے کے ساتھ میکے بھجوا دیا، یا بیوی از خود میکے چلی گئی اور تقریباً ڈیڑھ سال تک اپنے والدین کے گھر رہی اس کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر عورت کی عدت بھی گزر گئی۔ اب عورت اپنے ڈیڑھ سال اور عدت کے اخراجات او ربچے کے اخراجات کا مطالبہ کر رہی ہے، تو اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اگر بیوی نافرمان ہو تو کیا حکم ہے؟ اور اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی مسئلہ کی وضاحت فرما کر عندالله ماجور ہوں۔

جواب

زیادتی عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے عورت کو بہر صورت گزشتہ دنوں کے اخراجات کے طلب کرنے کا حق نہیں، اس لیے کہ ایک ماہ یا زیادہ گزرنے سے گزشتہ دنوں کا خرچہ ساقط ہو جاتا ہے، البتہ اگر شوہر نے بیوی کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ جب تک تم میکہ میں رہو گی، تو تم کو اتنا خرچہ دیتارہوں گا یا حاکم نے کوئی مقدار متعین کر لی تھی، تو صرف بیوی کے گزشتہ دنوں کا خرچ دینا لازم ہو گا نہ کے بچے کا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی