بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد کے لیے کنڈا لگا کر بجلی حاصل کرنا

مسجد کے لیے کنڈا لگا کر بجلی حاصل کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ احقر کو کچھ عرصہ سے ایک مسئلہ میں تشویش کا سامنا تھا ،جس کے حل کے لیے حضور سے خط وکتابت کی سعادت سے فیض یاب ہونے کو غنیمت جان کر مسئلہ معروضہ میں تحقیق کا طالب ہوں۔

ہمارے گاؤں کی تمام مساجد، بشمول اس مسجد کے، جس میں احقر خودامام وخطیب ہے ،بجلی کا استعمال مسجد اور نمازیوں کی ضرورت میں، مثلاً: بلب کی روشنی، پنکھے کی ہوا، وضو کے پانی کے لیے واٹر پمپ میں بغیر میٹر کے ہے، یعنی کنڈا سسٹم ہے۔

آیا اب ہماری مسجدوں میں اس پانی سے وضو، بلب کی روشنی سے تلاوتِ قرآن او رپنکھے کی ہوا سے راحت وسکون کا حصول جائز ہے؟ اور ہماری نماز کے فرائض ،واجبات ،سنن اورمستحبات سارے ٹھیک ہیں؟ یا ان کی ادائیگی میں کوئی حرف ہے؟ اور یاد رہے کہ تمام مساجد میٹر اور بل کی ادائیگی پر بخوبی قادر ہیں، اس کی تمام صورتوں کا کافی او رجامع جواب ارسال فرما کر دعاؤں کے مستحق ہوں ۔

جواب

واضح رہے کہ کنڈا لگا کر بجلی کا استعمال کرنا، چاہے مسجد کے لیے ہو یا کسی اور جگہ کے لیے، ممنوع اور ناجائز ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں نمازیوں کی کسی بھی ضرورت، مثلاً: بلب کی روشنی یا پنکھے کی ہوا وغیرہ کے لیے غیر قانونی کنڈا لگا کر بجلی حاصل کرنا جائز نہیں ہے اور اس فعل پر تمام نمازی حضرات اور خصوصاً مسجد کی انتظامیہ والے گناہ گار ہوں گے، تاہم نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی، البتہ صرف بجلی کے ناجائز استعمال کا گناہ ہو گا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی