بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد کی نچلی منزل پر جگہ کے ہوتے ہوئے بالائی منزل پر صف بنانا

مسجد کی نچلی منزل پر جگہ کے ہوتے ہوئے بالائی منزل پر صف بنانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر جماعت کھڑی ہوجائے ،لوگ صف بندی  شروع کردیں،کچھ لوگ مسجد کی اوپر والی منزل  پر جاکر صف بنانا شروع کردیں،جبکہ نیچے ابھی تک صفیں مکمل نہیں ہوئی ،تو   آیا  ایسی صورت لوگوں کا اوپر صف  بنانا جائز ہے ،یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

       

واضح رہے کہ اوپر کی منزل میں صف بنانا ،جبکہ نیچے صف مکمل نہ ہو، مکروہ ہے، لہذا جب تک نیچے صفوں میں گنجائش ہو ، بالائی منزلوں میں صف نہیں بنانی چاہیے۔

لما في قاضي خان:

"الصلاة على الرفوف اللتي تكون في المسجد إن كان يجد مكانا في صحن المسجد يكره وإن كان لا يجد لايكره".

(كتاب الصلاة،فصل:فيمن يصح الاقتداءبه، فيمن لايصح،1/61ط:دار الفكر).

وفي الدر المختار:

"ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة ".(كتاب الصلاة، باب الإمامة،مطلب: في الكلام على الصف الأول،2/374،ط:رشيدية).

وفي البحر:

"فإن القوم يقومون على الرفوف والإمام على الأرض ولم يكره ذلك لضيق المكان  كذا في النهاية". (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،2/47،ط: رشيدية). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/70