بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرکے پرانی مسجد کو اپنے استعمال میں لانا

مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرکے پرانی مسجد کو اپنے استعمال میں لانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے  اپنے گھر کے متصل ایک  مسجد بنائی تھی ،کچھ عرصہ ہم نے اس میں نماز بھی پڑھی، بعد میں تیز ہواؤں  اور بارشوں کی وجہ سے مسجد شہید ہوگئی،اورجو باقی بچی وہ ہم نے خود شہید کردی،محلے والوں کے تنازع کی بناء پر دوبارہ تعمیر نہیں کی،کیونکہ دوسری مسجد بہت قریب تھی ،اور اپنی مسجد میں ہم نے کبھی جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی کبھی اس میں اذان دی گئی ،اب ہم اس مسجد  کو اپنے استعمال میں لانا چاہتے ہیں،اس کے بدلے دوسری مسجد یا  دوسری زمین وقف کریں گے کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس زمین کو ہم اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں جب ایک مرتبہ شرعی مسجد بن جا  ئے ،تو وہ قیامت تک کے لیے مسجد ہی رہے گی،اس کو شہید کرکے اس کو ویران کرنا جائزنہیں ہے،اگرتیزہواوؤں اوربارشوں کیوجہ سےشہیدبھی ہوجائے،تو محلےوالوں کوچاہئےکہ دوبارہ اس کوبنائیں،لہذا صورت مسئولہ میں مسجد کو شہید کرنا ،اس کے بدلےمیں دوسری جگہ مسجدبنانااورپرانی مسجد کی زمین کو اپنےاستعمال  میں لاناجائز نہیں ہے،بلکہ اس  کو آباد کرنے  اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے   کی کوشش کی جائے۔

لما في التنوير مع الدر:

    "(ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني)  أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتى)".

(كتاب الوقف، مطلب في أحكام المساجد:6/550،ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/07