بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد پر وقف پیسوں کے استعمالات

مسجد پر وقف پیسوں کے استعمالات

سوال

1۔ کیا مسجد پر وقف کے پیسوں سےمتولی افطاری کی ترتیب کرسکتا ہے،جبکہ افطار کرانا مساجد میں ہمارے ہاں عام رواج ہو؟

2۔   اور کیا مسجد میں معتکفین کے لیےافطار اور سحری کی ترتیب مسجد پر وقف کے پیسوں سےجائز ہے؟

3۔ کیا مسجد کے لیے خزانۃ الماء اور فریج ،اور دیگر ضروری اشیاء کا مسجد پر وقف کے پیسوں سے خریدنا کیسا ہے؟

4۔مسجد پر وقف کے پیسوں کو کہاں کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے؟اور کن کن جگہوں میں استعمال جائز نہیں؟راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

 1,2۔    اگر اہل  محلہ نے مسجد کے نام پر پیسے دئیے ہوں تو  ان پیسوں سےمعتکفین حضرات کے لیے افطاری ،یا سحری کا انتظام کرنادرست نہیں ،البتہ اگر اہل محلہ نے پیسے دیتے وقت معتکفین حضرات کے لیے افطاری اور سحری کا انتظام کرنے کی صراحت کی ہو ،تو پھر یہ پیسے وقف کے نہیں بلکہ یہ صدقہ نافلہ شمار ہوں گےاور اسے افطاری وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے۔

3۔ خزانۃالماء ، ٹینکی چونکہ مصالح مسجد میں سے ہے،لہذا مسجد کے پیسوں سے اسے خریدنا جائز ہےالبتہ فریج خریدنا درست نہیں۔

4۔ اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کی مسجد کے پیسوں کو ان چیزوں میں خرچ کرناچاہیے،جن میں خرچ کرنے میں مسجد کی مصلحت  ہو، اور اس چیز کی واقعتاً ضرورت بھی ہو،یا یہ کہ وہاں پر خر چ  نہ کرنے سے مسجد ویران اور غیر آباد ہوتی ہو،مثلاً : امام ،مؤذن اور خادمین کی تنخواہ ،مسجد کے لیے پانی کا انتظام کرنا،پنکھے ،لائٹیں ،صفیں، لاؤڈ اسپیکر، جنریٹر ،وضو خانہ ،واش روم، اور استنجاخانوں وغیرہ میں خرچ کرنا درست ہے،اور جن چیزوں پر خرچ کرنے میں مسجد کی کوئی  مصلحت نہ ہو، یا اس کی عام طور پر اہل محلہ کو ضرورت نہ پڑتی ہو مثلاً :ٹوپیاں ،یا فریج  وغیرہ خریدنا یا افطاری و سحری کا انتظام کرنا،ضرورت سے زائد لائٹیں  خریدنا،تو ان چیزوں میں خرچ کرنا درست نہیں ہے

لما فی البحر الرائق:

أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحة المسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به وإن كان بحال يسمع الجيران الأذان بغير منارة فلا أرى لهم أن يفعلوا ذلك.

(كتاب الوقف،5360، ط: رشيدية) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 163/217,219