بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد میں مروجہ ختم قرآن اور اس کے اعلان کا حکم

مسجد میں مروجہ ختم قرآن اور اس کے اعلان کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:
مسلکِ دیوبند کی ایک مسجد میں، جس کے امام صاحب بھی دیوبندی ہیں، نماز کے بعد مؤذن صاحب مائیک لے کر اعلان کرتے ہیں کہ مسجد میں ختم قرآن ہوگا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح اعلان کرنا ٹھیک ہے؟ اگر نہیں، تو امام صاحب اور کمیٹی والوں کو کیا کرنا چاہیے؟

واضح رہے کہ اس سلسلہ کو بند کرنے پر کوئی لڑائی جھگڑا نہیں، لیکن امام صاحب ایک ادارے کے مفتی ہیں، وہ اپنی ذمہ داری معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

جواب

     

صورتِ مسئولہ میں قرآن خوانی کا اعلان کرنے سے اجتناب کیا جائے، اور اسے لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے، کیوں کہ مذکورہ قرآن خوانی میں درج ذیل مفاسد کا اندیشہ ہے:
1..ختم ِقرآن کے بعد ضیافت یا کسی بھی قسم کی کوئی چیز یا رقم ایصالِ ثواب کرنے والوں کو دینا، کیوں کہ یہ اجرت کے مشابہ ہے، لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے۔
2..کسی خاص دن یا تاریخ کو متعین کرنا۔
3..لوگوں کو ختم ِقرآن کے لیے دعوت دے کر اکٹھا کرنا۔
4..اس کو لازم سمجھنا۔
5..شرکت نہ کرنے والوں کو ملامتکرنا۔
6..پورے قرآن کے ختم کو لازم سمجھنا۔

اگر مذکورہ مفاسد ہوں، تو ختم ِقرآن کرنا ہی بدعت ہے، اور اعلان کرنا بھی درست نہیں، امام صاحب اور مسجد کی کمیٹی کے ذمہ لازم ہے کہ وہ حکمت وبصیرت کے ساتھ اس سلسلہ کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی