بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مسجد میں جماعت سے علیحدہ ہو کر تنہا نماز پڑھنے کا حکم

مسجد میں جماعت سے علیحدہ ہو کر تنہا نماز پڑھنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شہر کی جامع مسجد میں ہر نماز کے وقت ، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء جس وقت تکبیر تحریمہ کہہ کر باجماعت نماز شروع کی جاتی ہے عین اسی وقت ایک شخص مستقل امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اور اپنی نماز جماعت سے علیحدہ ہو کر صرف ایک صف کے فاصلے پر آگے یا پیچھے شروع کر تا ہے، یا تلاوت قرآن میں مصروف ہوتا ہے، کبھی کبھی جماعت کے افراد کے زیادہ ہو جانے پر اس شخص کا یہ عمل جماعت کی صفوں کے بیچ میں آجاتا ہے ۔

مزید وضاحت یہ ہے کہ موجودہ امام صاحب کے والد جو اس مسجد کے متولی اور خطیب تھے، اس کے پیچھے بھی یہ شخص نماز نہیں پڑھتا تھا باقی ساری جماعت بغیر کسی اختلاف کے اس امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتی ہے نماز کے اوقات تبدیل کرنے سے اس شخص کا بھی جان بوجھ کر وہی وقت ہوتا ہے جو تبدیل کیا جاتا ہے، مثلاً :عشاء کا ٹائم7:30 ہے تو اس کا بھی ساڑھے سات ہی ہے ،آٹھ بجے ہے تو اس کا بھی وہی ٹائم ،او راگر جماعت نو بجے ہو رہی ہے تو اس کی نمار کا ٹائم بھی وہی ہے، سارے اوقات علی ہذا القیاس۔

مذکورہ شخص کا یہ عمل کافی لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے، وضاحت سے مسئلہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ اس شخص کے لیے کیا حکم ہے او رجماعت کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

بلاکسی عذر شرعی مرَدوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، ترکِ جماعت پر متعدد احادیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا امام صاحب کے ساتھ معمولی سی ناچاقی کی بنا پر جماعت ترک کر دینا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں، نیز جماعت کے دوران اپنی نماز پڑھنا بھی درست نہیں، حدیث میں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

اہل محلہ ومسجد پر لازم ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبے سے، مخلصانہ طور پر تنہائی میں ، شفقت ونرمی کے ساتھ اسے جماعت کی فضیلت سنا کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے تیار کریں اور فریقین کے درمیان صلح کرانے کی بھرپور کوشش کریں اور اس کے لیے الله پاک سے دعائیں بھی مانگیں ، ہماری دعاؤں اور جہد مسلسل کی برکت سے اگر الله پاک اسے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والا بنادے اور فریقین کے باہمی اختلافات کو دور فرما دے، تو یہ یقینا ہماری نجات کے لیے آخرت میں بہت بڑا سامایہ ہو گا۔

ہم دعا گو ہیں کہ الله پاک تمام مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ختم فرماکر سب کو ایک اور نیک بنا دے اور صراطِ مستقیم پر قائم فرما دے۔ آمین! فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی