بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مروجہ نیوتہ کی شرعی حیثیت

مروجہ نیوتہ کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہں،علمائے کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں:
بعض علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ وہ شادی کے موقع پر ولیمہ میں شریک ہونے والوں سے پیسے لیتے ہیں ،جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دلھے کی طرف سے ایک آدمی مقرر کیا جاتا ہے، کاپی قلم اس کے حوالے کیا جاتا ہے، جتنے کھانا کھا کر نکلتے ہیں تو اس آدمی کے ہاں کچھ رقم500،1000 مثلاً دے کر پھر واپس ہوتے ہیں، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ اگر ناجائز ہے تو پھر مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ایک طالب العلم ہے، جس کے علاقے میں یہ چیز مروج ہے ،اس کے والدین جاہل ہیں، وہ طویل زمانہ سے دیتے آرہے ہیں، وہ پیسے لیے بغیر نہیں رہ سکتے ، شریعت میں اس کا اگر متبادل طریقہ موجود ہو تو ہماری اس کی طرف راہ نمائی فرمائیں، تاکہ والدین بھی راضی ہو جائیں اور ایک ناجائز امر سے بھی ہم بچ جائیں۔

جواب

شادی کے موقعہ پر مروجہ طریقے سے پیسے وصول کرنے کو نیوتہ کہا جاتا ہے، جو ایک جاہلانہ رسم ہونے کے ساتھ دیگر کئی مفاسد پر مشتمل ہے، اس کی شرعی حیثیت قرض کی ہے، نہ کہ صلہ رحمی، کیوں کہ اس میں عوض اور بدل کی قید صراحتاً یا تعاملاً ضروری موجود ہوتی ہے ، لہٰذا عقدِ قرض کے تمام احکامات نیوتہ پر مرتب ہوں گے، جب کہ مروجہ نیوتہ میں ان احکامات پر عمل نہیں ہوتا، مثلاً:
1..قرض بلاضرورت نہیں لینا چاہیے،جب کہ مروجہنیوتہ میں نیوتہ کی رقم دینے و الے کے اپنے اختیار سے دی جاتی ہے، جس کو لینا ضروری سمجھا جاتا ہے اور نہ لینے کو برادری والے برا سمجھتے ہیں۔
2..قرض کی واپسی سے متعلق ارشاد باری ہے، جس کا ترجمہ ہے کہ اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے مہلت دے دینی چاہیے، جب تک کہ وہ دے سکے، جب کہ مروجہ ”نیوتہ“ میں ادائیگی کا خاص وقت مقرر ہوتا ہے، یعنی دینے والے کے ہاں اس جیسی کوئی تقریب ہو ( شادی بیاہ) چاہے اس وقت سودی قرض ہی لینا پڑے، جب کہ یہ گنا ہ ہے۔
3..مقروض پر ضروری ہے کہ ادائیگی پر قادر ہوتے ہی اپنے ذمہ سے اس بوجھ کو اتار دے ، جب کہ اس رسم میں مخصوص موقع ( شادی) سے پہلے واپس نہیں کر سکتا۔
4..بسا اوقات اس میں زیادتی کی جاتی ہے اور بعض جگہوں میں باقاعدہ مطالبہ ہوتا ہے۔ جب کہ قرض پر زیادتی سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
5..”نیوتہ“ لینے والا بلا ضرورت کئی آدمیوں کا مقروض ہو جاتا ہے اور مقروض کے لیے احادیث میں وعیدیں آئی ہیں ،الغرض! اس سے اجتناب ضروری ہے، اس طالب علم کو چاہیے کہ اپنے والدین کو پیار محبت سے سمجھائے۔ ہاں! طمع ولالچ اور عوض کی نیت کے بغیر شادی کے اس خاص موقع کے علاوہ کسی وقت تحفہ کے طور پر رشتہ دار کچھ دے دیں تو اس کی گنجائش ہے اور اس سے آپس میں محبت بھی بڑھتی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی