بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مذکورہ کلمات کہنے سے نکاح کا حکم

مذکورہ کلمات کہنے سے نکاح کا حکم

سوال

۱۔ شوہر اگر بیوی کو “میرا بچہ”یا “ میری بچی” کہہ کر بلائے تو کیا اس سے ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

۲۔ بیوی اگر اپنے شوہر کو “ میرے باپ ” کہہ کر بلائے اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟

۳۔بھائی اگر بہن سے زنا کرے تو ان دونوں کا  نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

۴۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو زنا کرتے دیکھ لے تو کیا ان کا آپس کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

جواب

۱۔ شوہرکا اپنی بیوی کو “میرا بچہ”یا “میری بچی ” کہہ کر بلانا اگرچہ مکروہ ہے،لیکن اس سےمیاں ،بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

۲۔   بیوی کا اپنے شوہر کو“میرے باپ”کہنا ناجائز ہے،اس لئے کہ غیرباپ کو باپ کہنے کی ممانعت قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے،البتہ ایسا کہنے سےان کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

۳،۴۔   آخری دونوں صورتوں کا حکم یہ ہے کہ زنا بذاتِ خود   ایک انتہائی قبیح اور  شنیع فعل ہے،قرآن و حدیث میں اس کے متعلق بکثرت وعیدات وارد ہوئی ہیں،چہ جائیکہ  بھائی اور بہن اس  فعل میں مبتلاء ہوں تو اس سے اس کی شناعت مزید  بڑھ جاتی ہے،لیکن اس کے باوجود ان کے اپنے نکاح بدستور برقرار رہیں گے،نیز  اگر شوہر بیوی کو حالت زناء میں دیکھ لے تو اس سے بھی ان کا نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

وفي التنويرمع الدر:

"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه

وفي الشامية تحته:

"(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه.

وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» اهـ

 ( كتاب الطلاق ،باب الظهار، مطلب: بلاغات محمد ـ رحمه الله ـ مسندة، 5/133، ط: رشيدية )  

وفي روح المعاني:

 "ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه وعدذلك بعضهم من الكبائر. (الأحزاب:5، 21194،مؤسسة الرسالة) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 163/217,219