بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

”جاؤ ،میں نے تمہیں اپنی زندگی سے آزاد کیا“ کے الفاظ سے طلاق کا حکم

”جاؤ ،میں نے تمہیں اپنی زندگی سے آزاد کیا“ کے الفاظ سے طلاق کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی شادی والدین کے کہنے پر ہوئی، شادی کے بعد ابتدائی چھ مہینے ٹھیک گزرے، اس کے بعد تعلق خراب ہونا شروع ہوگیا، حالات کی خرابی کی وجہ بیوی کا نامناسب رویہ تھا، اس کے ساتھ کچھ روحانی مسائل بھی تھے جس کا کافی علاج کرایا، اس کے علاوہ اس کے بات کرنے کا انداز انتہائی توہین آمیز ہوتا تھا، اس کے گھر والوں کو بھی بتایا کہ انہیں سمجھائیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔

کچھ عرصہ قبل میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا او رکہا کہ ”اگر مرد ہو تو دیدو طلاق“، جس کے جواب میں ،میں نے کہا کہ :”جاؤ، میں نے تمہیں اپنی زندگی سے آزاد کیا“، مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے، میرا مقصد اسے ڈرانا تھا، بہرحال ہم نے رجوع کر لیا تھا، ابھی تین دن قبل اس کی حددرجہ بدتمیزی کی وجہ سے میں نے اسے کہا کہ: ”میں آج تمہیں خدا کو حاضر ناظر جان کر پہلی طلاق دیتا ہوں“، اس کے بعد میں نے رجوع نہیں کیااور اسے والدین کے گھر بھیج دیا ہے۔

اب میں ان حالات سے تنگ آگیا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اگر اس کے گھر والے بات مان گئے تو میرا رجوع کا ارادہ نہیں ہے، او راگر وہ بہت اصرار کریں اور روز لگائیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا، تو سوچوں گا کہ کیا کیا جائے۔

آپ حضرات شریعت مطہرہ کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق ایک طلاق ہوئی ہے یا دو طلاقیں؟ اس کا کیا حکم اور کیا کفارہ ہے؟ بیوی کے لیے کیا حکم ہے او رہمارے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ نے اپنی بیوی کے لیے تین طرح کے طلاق کے الفاظ ادا کیے ہیں: 1..”جاؤ“ 2..”میں نے تمہیں اپنی زندگی سے آزاد کیا“ 3..میں آج تمہیں خدا کو حاضر ناظر جان کر پہلی طلاق دیتا ہوں“ ،ان میں سے ہر ایک جملے کا حکم درج ذیل ہے:
1..”جاؤ“ یہ طلاق کے ان الفاظ میں سے ہے جن سے طلاق کا واقع ہونا نیت پر موقوف ہوتا ہے، چوں کہ صورت مذکورہ میں طلاق کی نیت نہیں تھی ،اس لیے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

2..”میں نے تمہیں اپنی زندگی سے آزاد کیا“ یہ الفاظ چوں کہ صریح کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان سے بلانیت ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، اس کے بعد چوں کہ رجوع پایا گیا، لہٰذا وہ بدستور آپ کی بیوی رہے گی۔

3..”میں آج تمہیں خدا کو حاضر ناظر جان کر پہلی طلاق دیتا ہوں“ اس سے بھی بلانیت ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، عدت کے اندر اندر رجوع کر لینے سے رشتہٴ زوجیت بر قرار رہے گا، چوں کہ آپ کی بیوی کو دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، لہٰذا اس کے بعد آپ کو صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ جائے گا، طلاق کے معاملے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

ایسی صورت حال میں آپ کے بڑوں کو چاہیے کہ جذبات سے بالاتر ہو کر اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں، حتی الامکان ان کے مابین مصالحت کی کوشش کریں، تاکہ ایک گھر اجڑنے سے محفوظ رہے اور آپ بھی صبر اور برداشت سے کام لیں اور اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں، تاکہ غصے او رجذبات میں آکر وقتی طور پر اٹھایا گیا قدم ہمیشہ کی پشیمانی کا سبب نہ بنے اور بیوی کو چاہیے کہ اچھے اخلاق کا مظاہر کرے، رویے اور لہجے میں نرمی اپنائے اور شوہر کا احترام اور اس کی فرماں برداری کو اپنے اوپر لازم کر لے، یہی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات اور صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کا طریقہ ہے۔