بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدرسے والوں کا موبائل توڑنے کا ضابطہ بنانا،اور توڑنے کا ضمان کس پر آئے گا؟

مدرسے والوں کا موبائل توڑنے کا ضابطہ بنانا،اور توڑنے کا ضمان کس پر آئے گا؟

سوال

ایک  مسئلہ میں شرعی حکم معلوم کرنا ہے،  وہ یہ کہ ایک دینی مدرسہ میں طلبہ کرام کے لیے من جملہ شرائط و ضوابط کے ایک  ضابطہ یہ ہے کہ طلبہ کرام کے لیے سمارٹ موبائل فون  رکھنے کی ممانعت ہے،  جس طالب علم سے سمارٹ موبائل پکڑا گیا اس سے ضبط کرلیا جائے گا،   اور ایک مخصوص مدت کے بعد مثلاً سال کے آخر میں واپس کیا جائے گا،  مدرسہ کے ایک استاذ  صاحب  دامت فیوضہ کی یہ عادتِ شریفہ ہے کہ وہ  غیر تعلیمی اوقات میں اچانک کسی ایسے وقت میں طلبہ  کے درمیان چھاپہ مارتے ہیں جس وقت کے متعلق طلبہ کا خیال  یہ ہوتا ہے کہ اس وقت کوئی استاذ ہماری طرف نہیں آئے گا،  اور طلبہ سے موبائل لے کر ان کے سامنے توڑدیتے ہیں،  اب موجودہ صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات کے جوابات شریعت ِمحمدی علی صاحبھا الف الف صلوات و تسلیمات کی روشنی میں عنایت فرماکر شکریہ  کا موقع عنایت فرمائیں:

۱۔ مدرسہ والوں کے لیے ایسا ضابطہ بنانے کی شرعی حیثیت من جملہ احکام شرعیہ ثمانیہ(فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح، مکروہ تنزیہی، مکروہ تحریمی ،حرام) کے کیا ہے؟

۲۔  طلبہ کرام کے خلاف ورزی کرنے پر اچانک چھاپہ مارنااور انہیں ذہنی تشویش میں مبتلا کرنا کیسا ہے؟

۳۔   طلبہ کرام سے موبائل لے کر انہیں توڑنے کیا حکم ہے؟

۴۔ موبائل توڑنے پر ضمان کس پر آئے گی مدرسہ پر یا توڑنے والے پر؟

۵۔   اب تک جن طلبہ کرام کے موبائل توڑے اور وہ طلبہ کرام مدرسہ سے الوداع ہوچکے اور ان کے متعلق معلوم نہیں ہوسکتا تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہے، جبکہ وہ طلبہ کرام کسی صورت میں معاف کرنے کو تیار نہ ہوں؟

۶۔  کیا مدرسہ والوں کے لیے ایسا کرنا جائز ہے کہ موبائل لے کر انہیں بیچ  کر رقم مدرسہ میں جمع کرادیں؟ یا ایسا ضابطہ  بنانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

         مذکورہ بالا سوالات کے شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوابات عنایت فرمائیں۔  شکریہ ۔

جواب 

۱۔واضح رہے کہ منتظمینِ مدارس کےلیے طلبہ کی علمی و عملی استعداد کو پختہ اور مضبوط بنانے کے لیے  ایسے قواعد و ضوابط تشکیل  دینا، جس  میں خالصتاً طلبہ کی بہترتربیت اور   اصلاح پیشِ نظر   ہو ،نا صرف جائز،بلکہ  طلبہ اور منتظمین مدارس  دونوں کے حق میں انتہائی  مفید بھی ہے۔

۲۔  درست ہے،تاکہ طلبہ کسی بھی وقت مدرسے کے ضوابط کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کریں۔

۳۔  درست نہیں ہے،بلکہ اس کی بجائے وہ موبائل اپنی تحویل میں لے لیا جائے،مدرسے سے جاتے وقت ،یا اس سے پہلے مناسب تنبیہ کےبعد  اس طالب علم کو واپس کردیا جائے۔

۴۔ضمان توڑنے والے پر آئے گا۔

۵۔  حتی الامکان ان کو تلاش کر کےوہ موبائل  ان کے حوالے کیا جائے،بصورتِ دیگر  اس کو   بیچ کررقم اس طالب علم کی طرف سے کسی مستحق   پر  صدقہ کردی جائے۔

۶۔ ایسا کرنا تعزیرِ مالی کے زمرے میں آئےگا،لہذا ایسا ضابطہ  نہ بنایا  جائے،بلکہ مذکورہ بالا ضابطہ(وہ موبائل اپنی تحویل میں لے لیا جائے،مدرسے سے جاتے وقت ،یا اس سے پہلے مناسب تنبیہ کے بعداس طالب علم کو  واپس کردیا جائے) ہی زیادہ کارآمد اور مفید ہے۔

لما في الشامية:

وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ ورأى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى... والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال (باب التعزير،مطلب: في التعزيربأخذ المال،698،ط:رشيدية)

و في شرح القواعد الفقهية:

' المباشر ' للفعل ' ضامن ' لما تلف بفعله إذا كان متعدياً فيه ، ويكفي لكونه متعدياً أن يتصل فعله في غير ملكه بمالا مسوغ له فيه سواء كان نفس الفعل سائغاً....أو غيرسائغ ...' وإن لم يتعمد ' الإتلاف ، لأن الخطأ يرفع عنه إثم مباشرة الإتلاف ولا يرفع عنه ضمان المتلف بعد أن كان متعدياً.( ( القاعدة الحادية والتسعون ( المادة / 92 ،ص:453،دارالقلم) )

وفي مجمع الضمانات:

"المباشر ضامن وإن لم يتعد والمتسبب لا إلإ إذا كان متعديا".  (الباب الحادي عشر،الفصل الرابع،ص: 34،رشيدية)

وفي المجلّة:

( المادة 416 )الضمان هو إعطاء مثل الشيء إن كان من المثليات وقيمته إن كان من القيميات.(ص:267،دار ابن حزم) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/348,51