بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

میت کمیٹی بنانا

میت کمیٹی بنانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں پرانے زمانے سے ایک رواج چلتا آ رہا ہے وہ یہ کہ ہر علاقیمیں ایک کمیٹی ہوتی ہے ،وہ ہر مہینے یا جب فوتگی ہو جائے تو پیسے جمع کرکے باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے اور جس گھر میں فوتگی ہوئی ہے ان کے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام ان ہی پیسوں سے کرتے ہیں، اس کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ برف باری کے موسم میں علاقے والے پیسے جمع کرکے لکڑیاں لے آتے ہیں ،یہی لکڑیاں اگر فوتگی ہو جائے تو اس کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں اور علاقے والے سردی میں مسجد کے ساتھ کمرے میں ڈرم لگا کے اس میں آگ جلاتے ہیں اور سب بیٹھ کر گرم ہوتے ہیں، اگر فوتگی ہو جائے ان دنوں میں یا تبلیغی حضرات آجائیں تو یہ سب مہمان بھی وہی ہوتے ہیں اور علاقے والے بھی وہی بیٹھ کر گرم ہوتے ہیں، یہ ہر علاقے کا ایک قانون ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح پیسے جمع کرکے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مفصل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے ایک دن یعنی صبح، شام کے کھانے کا انتظام کرنا ایک مستحب عمل ہے، لیکن اس کے لیے مذکورہ کمیٹی کی صورت اختیار کرنا بوجہ مندرجہ ذیل مفاسد درست نہیں، اس لیے احتراز کیا جائے:

1..سلف صالحین سے ایک غیر منقول عمل کو اختیار کرنا ہے جو کہ درست نہیں۔

2..ایک مستحب عمل کے لیے التزام کرنا ہے جو کہ مکروہ ہے۔

3..بعض دفعہ پیسے دینے والے دلی خوشی کے ساتھ نہیں دیتے، جب کہ کسی کا مال بغیر اس کی دلی رضا مندی اور خوشی کے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔

4..مذکورہ کمیٹی کی صورت میں میت کے گھر والوں کے جمع شدہ پیسے بھی لگتے ہیں، جب کہ مقصود یہ ہے کہ الله کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مال سے میت کے قریبی رشتہ داروں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے، نہ کہ میت کے گھروالوں کے مال سے۔

5..کمیٹی میں حصہ ڈالنے والوں کے مال کا صحیح علم نہیں ہوتا کہ حلال ہے یہ حرام؟

6..حصہ نہ دینے والوں کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

7..اس دن دعوت کی ایک شکل بن جاتی ہے جو کہ میت کے گھر والوں کے لیے ایذاء کا سبب بنتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

لہٰذا کمیٹی کی یہ مذکورہ صورت درست نہیں، البتہ جواز کی صورت یہ ہے کہ فوتگی ہو جانے پر چند آدمی یا کوئی ایک شخص میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی