بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدت نفاس میں انقطاع دم کا حکم، طہر متخلل میں نماز اور روزہ کا حکم

مدت نفاس میں انقطاع دم کا حکم، طہر متخلل میں نماز اور روزہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو تین  دن نفاس کا خون آیا اور وہ پاک ہوگئی ، پھر سولہ دن بعد خون آیا یعنی انیسویں دن تو یہ نفاس کا خون ہوگا ،یا حیض کا ہوگا؟ اور اس صورت میں نماز اور روزے کا حکم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  عورت کو تین دن نفا س کا خون آیا اور پھر اس کے بعد انیسویں دن خون آیا،تو یہ خون نفاس کا شمار ہوگا، لہذ ا ان ایام میں نماز ساقط ہوگی، اور روزوں کی قضا کرے گی۔

لما في الشامية:

الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس لا يفصل عند أبي حنيفة سواء كان خمسة عشر أو أقل أو أكثر ويجعل إحاطة الدمين بطرفيه كالدم المتوالي وعليه الفتوى وعندهما الخمسة عشر تفصل فلو رأت بعد الولادة يوما دما وثمانية وثلاثين طهرا ويوما دما فعنده الأربعون نفاس.(كتاب الطهارة،في باب الحيض والنفاس،1532،رشيدية)

وفي البحرالرائق:

قوله: والطهر بين الدمين في المدة حيض ونفاس " يعني أن الطهر المتخلل بين دمين والدمان في مدة الحيض أو في مدة النفاس يكون حيضا في الأول ونفاسا في الثاني. (كتاب الطهارة،باب الحيض والنفاس،1356،رشيدية)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:169/275