بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مدت حیض بدل جانے پر حیض کا حکم

مدت حیض بدل جانے پر حیض کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میری عمر 37 سال ہے ، چار بچے ہیں ،مجھے حیض و نفاس کے بارے میں سوال پوچھناہے، میری عادت سات دنوں تک تھی ،چوتھے بچے تک بھی یہی عادت تھی ،پھر دماغی کمزوری کی وجہ سے عادت  میں تبدیلی آگئی اور دس  دن کی عادت ہوگئی اور علاج بھی بہت کروایا ، لیکن اب تک وہی عادت ہےاور پاکی کے زمانے میں  پہلے یہ  عادت تھی  کہ اگر حیض مہینہ کی 20 تاریخ  کو  آتا ، تو اگلے مہینے کے کبھی 24 کو یا 26 کو آتا ،یعنی کبھی ایک دن پہلے اور کبھی ایک دن بعد میں ،اب ایسا ہوتا ہے کہ اگر 4 تاریخ کو حیض آرہا ہے ، تو اگلے  مہینے تین یا چار دن پہلے آتاہےاور اب یہی عادت ہے اور حیض کے دن دس ہوگئے اور کبھی دس دن سے اوپر بھی ہوجاتاہےاور خون آنے کا حال یہ ہے ، کہ جب حیض کازمانہ شروع ہوتا ہے ، تب  ایک دن یا ایک دن سے کچھ زائد  کپڑے پر دھبہ نہیں  دکھتا ، لیکن محسوس ہوتا ہے ،کہ حیض شروع ہوگیا ہے ،دوسرے دن سے پھر  مجھے دھبہ نظر آتاہے ،جس سے مجھے پتہ لگ جاتا ہے ،کہ اب حیض شروع گیا ،اسی طرح  مجھے   پانچ  ،چار  دن  تک  ہلکا  ہلکا خون کا دھبہ  دکھتا ہے ،پھرپانچ ،چھ دن کے بعد دو یا تین دن تک کھل کر خون آتا ہے ،پھر دو سے تین  دن تک وہ ہی دھبہ والی کیفیت ہوتی ہے،لہذا قرآن  وحدیث کی روشنی میں  آگاہ فرمائیں  ،کہ میرے  حیض  کے دن کتنے شمار ہونگے

جواب

       

صورت ِ مسئولہ میں آپ کی  عادت  سات  دن  سے  بدل کر  دس   دن  ہوگئی  ، لہذا  جس دن آپ خون دیکھ لیں  اس  دن سے  دس  دن  تک  حیض شمار  ہوگا  ،خواہ  خون  کم  مقدار  میں  ہو  یا  زیادہ  اوردس  دن گذرنے  کے  بعد آپ  پاک شمار ہوں گی ۔

لما في  رد المختار:

"قوله ( والزائد على أكثره ) أي في حق المبتدأة أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة الخ أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما فهو انتقال للعادة فيهما فيكون حيضا ونفاسا ".(كتاب الطهارة ، باب الحيض ،1/522،ط:رشيدية).

وفي بدائع الصنائع:

         "وأما صاحبة العادة في الحيض إذا كانت عادتها عشرة فزاد الدم عليها فالزيادة استحاضة وإن كانت عادتها خمسة فالزيادة عليها حيض معها إلى تمام العشرة لما ذكرنا في المبتدأة بالحيض وإن جاوز العشرة فعادتها حيض وما زاد عليها استحاضة".(كتاب الطهارة ، فصل في أحكام الحيض و النفاس،1/296،ط:دار الكتب العلمية).

وفي الهداية :

       "ولو زاد الدم على عشرة أيام ولها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها والذي زاد استحاضة".

(كتاب الطهارات، باب الحيض والنفاس،1/147،ط:دار الدقاق ،دار الفيحاء). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:172/106