بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مختلف وجوہات کی بنا پر شوہر کا بیوی کو طلا ق دینا

مختلف وجوہات کی بنا پر شوہر کا بیوی کو طلا ق دینا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی ہوئے آٹھ سال ہو گے ہیں، شادی کے پہلے سال الله پاک نے بیٹا دیا، پھر بیٹی جیسی نعمت سے نوازا، تیسرے بچے کی مردہ حالت میں پیدائش کے بعد میری ساس اور میرے سالے میری بیوی کو لے گئے اور کورٹ میں بیٹے کے حصول کے لیے مقدمہ درج کیا، بچے کا رحجان کم عمری سے ہی دادی کی طرف زیادہ ہونے کی بنا پر بیٹا دادی اور باپ کو دیا گیا، ہائی کورٹ تک یہ فیصلہ محفوظ رہا، پھر ہم صلح کرکے لے بھی آئے، لیکن بیوی مجھے مختلف طریقوں سے پریشان کرتی رہی، پھر ناراضگی ہوئی تو اس نے کورٹ سے خلع لی ، خلع کے بعد میں بچی کا ماہانہ سات ہزار خرچہ کورٹ کے حکم پر دیتا رہا، پھر ہم نے رجوع کیا اور واپس گھر آگئی، میری والدہ کی وفات ہوئی، ضروری کاغذات نکالنے پر میری بیوی کی الماری سے کالے علم کے تعویذ بھی برآمد ہوئے، جس پر میں نے غم وغصہ کا اظہار بھی کیا، الله نے مجھے ایک اور بیٹے سے نوازا، گھر میں تھوڑی خوشی کا ماحول بنا تو پھر میری ساس کچھ دن کا کہہ کر میری بیوی کو بیماری میں اپنے گھر لے گئی، خوشی خوشی، لیکن اس کے بعد کوئی رابطہ نہ کیا ، میں نے بچوں اور بیوی کے کپڑے بھیجے تو انہوں نے کپڑے واپس کرتے ہوئے ماہانہ خرچے کا مطالبہ کیا، پھر میں خود اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ ان کے گھر گیا اور واپسی لانے کی ہر ممکن کوشش کی، نہ وہ آنے کے حق میں ہے اور نہ ہی طلاق چاہتی ہے، بس بچی اور بچے کے خرچے کا مطالبہ کرتی ہے، میری بچی کی عمر سات سال اور بچے کی عمر چار ماہ ہے، جب کہ بڑا بیٹا (جو میرے پاس ہے) آٹھ سال کا ہے، میں کوئی فیصلہ کرنہیں پارہا، آپ دین کی روشنی میں میری مدد فرمائیے، میں نے گھر بسانے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

یعنی میں اس معاملے میں مزید انتظا رکروں یا طلاق دے دوں، یا کیا کروں؟ نیز طلاق دینے سے پہلے مذکورہ صورت حال میں یا طلاق دینے کی صورت میں بچوں کی تربیت اور خرچے کا شرعاً کیا حکم ہو گا؟

واضح رہے کہ مذکورہ خلع شوہر کی رضا مندی سے نہیں ہوا تھا، بلکہ عدالتی یک طرفہ تھا۔

جواب

واضح رہے کہ دین اسلام دین ِ فطرت او رایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس نے نوع انسانی کی تمام ضروریات کو مد ِ نظر رکھا ہے اور اسلام ہی فطرت انسانی سے سب سے زیادہ ہم آہنگ ہے، دین اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں افراط وتفریط سے کنارہ کش ہو کر راہ اعتدال پر گام زن ہے، اس نے ایک طرف فطری خواہشات میں غلو اور حد سے تجاوز پر انتہائی کڑی تنقید اور قدغن لگاتے ہوئے تمام ایسے غیر فطری، غیر شرعی اور ناجائز تعلقات کو حرام قرار دیا، جو کہ معاشرہ میں بے حیائی اور عریانی کی راہیں ہموار کرتے ہیں تو دوسری طرف میاں بیوی کا مبارک اور خوب صورت ترین رشتہ نکاح کی اجازت عنایت فرماکر نوع انسانی کی بقا اور نسل انسانی کی حفاظت کا سامان مہیا کر دیا۔

لہٰذا میاں بیوی اپنے اس مقدس او ربابرکت رشتہ کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے اپنے ازدواجی تعلقات اپنے خاندان کے بااثر افراد اور علمائے کرام کے ذریعے افہام وتفہیم سے بحال کریں اور دونوں ایک دوسرے کا بہترین ساتھ نبھاتے ہوئے اپنی آئندہ آنے والی نسل کے لیے ایک بہترین نمونہ بننے کی کوشش کریں، لیکن آپ کو اگر یہ علم ہے کہ اب کسی صورت میں میرے اور میری بیوی کے درمیان حدود الله کی رعایت کے ساتھ زندگی گزارنا ناممکن ہے، تو شریعت مطہرہ نے ایسی صورت میں شوہر کو طلاق کا اختیار دیا ہے کہ عورت کو ایک طلاق دے کر اسے آزاد کرکے دوسری جگہ بیاہ کرے، البتہ عورت عدت ( تین ماہواری) گزارنے کے بعد ہی شادی کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ خلع شوہر اور بیوی کا ایک باہمی معاملہ ہے، جو فریقین کی رضا مندی پر موقوف ہے، لہٰذا کوئی فریق دوسرے کو اس پر مجبور نہیں کرسکتا، نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ بیوی کو خلع پر شرعاً مجبور کرے اور نہ بیوی کو یہ حق ہے کہ وہ شوہر سے بزور قانون خلع حاصل کرے، اگر شوہر خلع پر راضی نہیں اور بیوی نے بزور قانون اس سے خلع حاصل کیا، تو خلع واقع نہیں ہوگا، بلکہ دونوں میاں بیوی کے درمیان بدستور نکاح برقراررہے گا۔

حالت نکاح میں یا طلاق دینے کے بعد بچے کی سات سال تک او ربچی کی نو سال تک پرورش کا حق شریعت نے ماں کو دیا ہے ۔اس مدت میں بھی بچوں کا نفقہ (خرچہ) والد پر واجب ہے، والد کو چاہیے کہ بچوں کے لیے خرچہ بھیجا کرے۔

طلاق دینے کے بعد کچھ تفصیل یہ ہے کہ اگر بچوں کی والدہ بچوں کے کسی ذی رحم محرم سے مثلاً: چچا سے نکاح کرے تو اس سے حق پرورش ساقط نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی اجنبی سے نکاح کرے گی یا اس کی حالت ایسی ہے کہ بچوں کی طرف سے غافل ہے اور وہاں رہنے میں فتنہ وغیرہ کا اندیشہ ہے،جس سے بچوں کی تربیت متاثر ہونے کا خطرہ ہو، تو ماں کا حق پرورش ختم ہو جائے گا اور نانی، دادی، بہن، خالہ ،پھوپھی کو حق پرورش ترتیب سے حاصل ہوگا، اس کے بعد والد کو حق ہو گا۔