بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محراب میں سے امام صاحب کے لیے دروازہ بنانا،اور اس سے مقتدیوں کا گزرنا

ڈیوٹی کے فارغ اوقات میں تلاوت اور مطالعہ کرنا،ذاتی کاموں کے لیے آفس کا وائی فائی استعمال کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کے محراب کے اندرہی سے ایک  راستہ خاص امام صاحب کے  آنے جانے کے لیے بنایاجاتاہے،تو کیا امام صاحب کے لیے محراب ہی سے راستہ بنانا جائز  ہے ،یا نہیں ؟

اگر جائز ہے تو اس راستے سے مقتدی حضرات بھی گزر سکتے ہیں ۔ یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں ۔

جواب 

   مسجد کا  کوئی بھی دروازہ ہو اس سے امام اور مقتدی گزر سکتے ہیں،کیونکہ اس کا تعلق انتظامی امور سے  ہے،البتہ محراب میں جو دروازہ بنایا جاتا ہے، وہ دروازہ امام صاحب اور مہمانوں کی سہولت کے لیے بنایا جاتا ہے،عام مقتدیوں کا اس راستے سے گزرنا انتظام میں خلل کا باعث بنتا ہے،لہذا مناسب نہیں ہے ، تاہم گزرنے میں کوئی گناہ نہیں ۔

لما في البحر الرائق:

ولو كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة لا بأس للإمام أن يدخل للصلاة من هذا الباب لأنه روي { أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدخل من حجرته إلى المسجد } .(كتاب الصلاة،5419،رشيدية)

وفي تحفة الأحوذي:

عَن عُرْوَةَ عَن عَائِشَةَ: "أنّ النّبيّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِسَدّ الأبْوَابِ إلاّ بَابَ أبي بَكْرٍ".......

عن سعد بن أبي وقاص قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسد الأبواب الشارعة في المسجد وترك باب عليّ، وقد ورد في الأمر بسد الأبواب إلا باب عليّ أحاديث أخرى ذكرها الحافظ في الفتح.(باب مناقب أبي بكروعمر رضي الله عنهما كليهما،10157،ط:دارإحياء التراث العربي). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/166