بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

متن کے بغیر صرف ترجمہ قرآن چھاپنے کا حکم

متن کے بغیر صرف ترجمہ قرآن چھاپنے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ برطانیہ میں ایک مسئلہ زیر بحث ہے کہ قرآن کریم کے ترجمہ کو بغیر عربی الفاظ کے شائع کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں آپ حضرات سے راہ نمائی مطلوب ہے۔ امید ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں گے۔

جواب

قرآن کریم کے ترجمہ کو اصل عربی متن اور قرآنی کلمات کے بغیر چھاپنا بالاجماع حرام اور ناجائز ہے، کئی مفاسد کا ذریعہ ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1..قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی تلاوت کرنے اور پڑھنے سے دس نیکیاں مل جاتی ہیں، اسی طرح قرآن کریم کو صرف دیکھنا بھی عبادت ہے، یوں اگر متنِ عربی کے بغیر قرآن کریم کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہو جائے تو اس میں قرآن کریم کی تلاوت اور دیکھنے کے اجروثواب سے محرومی ہے، جو کسی بھی مسلمان کے ہاں پسندیدہ نہیں:”من قرأ حرفا من کتاب الله فلہ حسنة، والحسنة بعشر أمثالھا، لا أقول: ألم حرف، ولکن: ألف حرف، ولام حرف، ومیم حرف“․ رواہ الترمذي․

عن أبي سعید الخدري قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم : ”أعطوا أعینکم حظھا من العبادة“․ قیل: یا رسول الله! وما حظھا من العبادة؟ قال: ”النظر في المصحف، والتفکر فیہ، والاعتبار عند عجائبہ“․ (شعب الإیمان للبیہقی، رقم الحدیث:2030)

2..مسلمانوں کا عام طبقہ اگرچہ دین سے دورضرور ہے، لیکن قرآنِ کریم سے ایک دلی لگاؤ اور تعلق ہے، روزانہ نہ سہی، کبھی کبھار تلاوت کرنے کا شوق ان کے دلو ں میں موج زن رہتا ہے، احکاماتِ الہٰیہ کو عام کرنے کی غرض سے اگر اسے قرآنِ کریم کا ترجمہ پیش کیا جائے تو اصل قرآنِ کریم سے بالکلیہ بے تعلقی ہو جائے گی اور وہ اجنبی بن کر رہ جائے گا اور یہ آیت صادق آجائے گی:﴿نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ کِتَابَ اللّہِ وَرَاء ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُون﴾․ (البقرة:101)
ترجمہ: اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے الله کی کتاب ( تورات وانجیل) کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا ،گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے۔

3..عام لوگ متنِ قرآن کریم کے بغیر ایسے ترجموں کو دیگر عام کتابوں کی طرح سمجھنے لگیں گے، پھر ان کا احترام بھی نہیں کریں گے اورناقابل انتفاع ہونے کی صورت میں (العیاذ بالله) ردی کا کاغذ سمجھ کرعام اوراق کی طرح ان کو بھی اپنے استعمال میں لائیں گے۔ ان ناجائز کاموں کا سبب ہم بنے اور یہ ہرشخص جانتا ہے کہ ناجائز کام کا سبب بننا بھی گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے ناجائز ہے:﴿ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾․(المائدة:2)
ترجمہ: او رنیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو اور الله سے ڈرتے رہو۔ بے شک الله کا عذاب بڑا سخت ہے۔

4..عربی متن کے بغیر قرآن کریم کی اشاعت کے عدمِ جواز پر چاروں مذاہب کے حضرات علمائے کرام کا اتفاق واجماع ہے:
علامہ ابن حجر الھیثمی رحمہ الله” الفتاوی الکبری الفقہیة“ میں لکھتے ہیں:”وسئل“ نفع الله بعلومہ ھل تحرم کتابة القرآن الکریم بالعجمیة کقراء تہ؟ ”فأجاب“ بقولہ: قضیة ما في المجموع عن الأصحاب التحریم، وذلک لأنہ قال: وأما ما نقل عن سلمان رضيالله عنہ ”أن قوما من الفرس سألوہ أن یکتب لھم شیئا من القرآن، فکتب لھم فاتحة الکتاب بالفارسیة، فأجاب عنہ أصحابنا بأنہ کتب تفسیر الفاتحة، لاحقیقتھا اھ فھو ظاھر أو صریح في تحریم کتابتھا بالعجمیة، فإن قلت: کلام الأصحاب إنما ھو جواب عن حرمة قراء تھا بالعجمیة المترتبة علی الکتابة بھا، فلا دلیل لکم فیہ، قلت: بل ھو جواب عن الأمرین، وزعم أن القراء ة بالعجمیة مترتبة علی الکتابة بھا ممنوع بإطلاقہ، فقد یکتب بالعجمیة، ویقرأ بالعربیة وعکسہ، فلا تلازم بینھما، کما ھو واضح، وإذا لم یکن بینھما تلازم کان الجواب عما فعلہ سلمان رضي الله عنہ في ذلک ظاہرا فیما قلناہ علی أن مما یصرح بہ أیضا أن مالکا رضي الله عنہ سئل ھل یکتب المصحف علی ما أحدثہ الناس من الھجاء؟ فقال: لا، إلا علی الکتبة الأولی، أي: کتبة الإمام، وھو المصحف العثماني، قال بعض أئمة القراء ونسبتہ إلی مالک، لأنہ المسئول، وإلا فھو مذھب الأئمة الأربعة․ قال أبو عمرو: ولا مخالف لہ في ذلک من علماء الأمة، وقال بعضھم: والذي ذھب إلیہ مالک ھو الحق، إذ فیہ بقاء الحالة الأولی إلی أن یتعلمھا الآخرون، وفي خلافھا تجھیل آخر الأمة أولھم، وإذا وقع الإجماع کما تری علی منع ما أحدث الناس الیوم من مثل کتابة الربا بالألف مع أنہ موافق للفظ الھجاء، فمنع مالیس من جنس الھجاء أولی، وأیضا ففي کتابتہ بالعجمیة تصرف في اللفظ المعجز الذي حصل التحدي بہ بما لم یرد، بل بما یوھم عدم الإعجاز، بل الرکاکة․ لأن الألفاظ العجمیة فیھا تقدیم المضاف إلیہ علی المضاف، ونحو ذلک، مما یخل بالنظم ویشوش الفھم․ وقد صرحوا بأن الترتیب من مناط الإعجاز وھو ظاہر في حرمة تقدیم آیة علی آیةً کتابة کما یحرم ذلک قراء ةً، فقد صرحوا بأن القرا ء ة بعکس السور مکروھة، وبعکس الآیات محرمة، وفرقوا بأن ترتیب السور علی النظم المصحفي مظنون، وترتیب الآیات قطعي․ وزعم أن کتابتہ بالعجمیة فیھا سھولة للتعلیم کذب مخالف للواقع والمشاھدة، فلا یلتفت لذلک، علی أنہ لو سلم صدقہ لم یکن مبیحا لإخراج ألفاظ القرآن عما کتبت علیہ، وأجمع علیھا السلف والخلف․“ (38-37/1)

علامہ بیہقی رحمہ الله”شعب الایمان“ میں فرماتے ہیں:”من کتب مصحفا فینبغي أن یحافظ علی الھجاء الذي کتبوا بہ تلک المصاحف، ولا یخالفھم فیھا، ولا یغیر مما کتبوہ شیئا، فإنھم کانوا أکثر علما، وأصدق قلبا ولسانا، وأعظم أمانة منا، فلا ینبغي لنا أن نظن بأنفسنا استدراکا علیھم ولا تسقطا لھم․“ (الجامع لشعب الایمان، 219/4، مکتبة الرشد)

علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله فرماتے ہیں:
”إن الله لما أنزل کتابہ باللسان العربي، وجعل رسولہ مبلغا عنہ الکتاب والحکمة بلسانہ العربي، وجعل السابقین إلی ھذا الدین متکلمین بہ: لم یکن سبیل إلی ضبط الدین ومعرفتہ إلا بضبط ھذا اللسان، وصارت معرفتہ من الدین، وصار اعتیاد التکلم بہ أسھل علی أھل الدین في معرفة دین الله، وأقرب إلی إقامة شعائر الدین، وأقرب إلی مشابھتھم للسابقین الأولین، من المھاجرین والأنصار فی جمیع أمورھم․“ ( اقتضاء الصراط المستقیم)

فقہائے کرام رحمہم الله تو رسمِ عثمانی تبدیل کرنے یا ہجوں میں تغیر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں، چہ جائیکہ پورا قرآن ہی بغیر عربی متن اور قرآنی آیات کے چھاپ دیا جائے، چناں چہ امام مالک رحمہ الله سے مروی ہے:”روی السخاوي بسندہ: أنَّ مالکا رحمہ الله سئل: أرأیت من استکتب مصحفا، أتری أن یکتب علی ما استحدثہ الناس من الھجاء الیوم؟، فقال: ”لاأری ذلک، ولکن یکتب علی الکتبة الأولی“․

قال السخاوي: والذي ذھب إلیہ”مالک“ ھو الحق، إذفیہ بقاء الحالة الأولی إلی أن تعلمھا الطبقة الأخری، ولاشک أنَّ ھذا ھو الأحری بعد الأحری، إذ في خلاف ذلک تجھیل الناس بأولیة ما في الطبقة الأولی․“

اور امام احمد رحمہ الله فرماتے ہیں:”تحرم مخالفة خط مصحف عثمان في واوٍ أو ألفٍ أو یاءٍ، أو غیر ذلک․“

امت کے فقہائے عظام ومحدثین کرام کے اجماع اور اتفاق کو غلط سمجھنا، جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی درج ذیل احادیث ِ مبارکہ کی تردید کے مترادف ہے:”لا یجمع الله أمتي علی الضلالة“ المستدرک،”ید الله علی الجماعة، فاتبعوا السواد الأعظم، فإنہ من شذ شذ في النار“․ المستدرک، لہٰذا دین اور امور دین کے متعلق وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیماتِ مقدسہ اور اجماعِ امت کے خلاف نہ ہو۔

5..یہود ونصاری کے ساتھ مشابہت بھی ہے کہ وہ بھی تورات اور انجیل کو متن کے بغیر شائع کرتے رہتے تھے، ان کے ساتھ مشابہت دنیوی امور میں جائز نہیں، دینی امور میں تو بطریقہ اولیٰ جائز نہیں ہو گی۔

6..اصل قرآنِ کریم کے ضیاع کا اندیشہ بھی ہے۔

7..اصل قرآنِ کریم کی طرح ترجمہٴ قرآن کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز نہیں۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:”ولو کان القرآن مکتوبا بالفارسیةیکرہ لھم مسہ عند أبي حنیفة، وکذا عندھما علی الصحیح“․

اگر متن کے بغیر صرف ترجمہ مطبوعہ شکل میں ہو تو عام لوگ اسے ایک عام کتاب سمجھ کر بغیر وضو کے ہاتھ لگائیں گے۔

8..جب اصل قرآنِ کریم موجود ہو تو اگر ترجموں میں کوئی اختلاف ہو بھی تو اصل کی طرف مراجعت کی جائے گی، ترجمہ میں اختلاف کو ترجمہ کرنے والوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کسی کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ اس اختلاف کی بنیاد اصل کتاب ہے، رفتہ رفتہ کچھ عرصے کے بعد یہ گمان ہونے لگے گا کہ اصل ہی مختلف فیہ ہے او رپھر عام لوگوں کا یہ عقیدہ بننا شروع ہو جائے گا کہ قرآنِ کریم ایک اختلافی کتاب ہے۔

9..صرف ترجموں کی اشاعت سے تحریف کا دروازہ کھل جائے گا اور اھل زیغ وضلال کو بہت آسانی سے غلط ترجمہ اور تفسیر کرنے کا نادر موقع ہاتھ آجائے گا، جو مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

10..قرآن کریم کی تقسیم کا ایک خطرناک دروازہ کھل سکتا ہے، باین طور کہ کسی نے احکام پر مشتمل آیتوں کا ترجمہ کرکے چھاپ دیا، کسی نے قصص وواقعات کا ترجمہ کرکے الگ ایک مجموعہ مرتب کر لیا، کسی نے قیامت، جنت، دوزخ، جنتیوں اور دوزخیوں کے احوال یکجا کرکے دوسرا مجموعہ تیار کر لیا، کچھ عرصے کے بعد مختلف اجزاء پر مشتمل حصوں کے قرآن ہونے کے بارے میں لوگ شک میں پڑ جائیں گے۔

لہٰذا ان مفاسد کے پیش نظر قرآن کریم کے ترجمہ کو بغیر عربی متن کے چھاپنا جائز نہیں ہے، باجماعِ فقہائے امت حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی