بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ماموں کے ورثاء سے اپنی والدہ کے حق میراث کا مطالبہ کرنے کا حکم

ماموں کے ورثاء سے اپنی والدہ کے حق میراث کا مطالبہ کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داداتقریباً ۸۰ سال پہلے وفات پاگئے ہیں، ان کی دو بیویاں  تھی ہرایک بیوی سے ۵ بیٹے  اور ایک بیٹی تھی  ،انہوں نے اپنا حق میراث اپنے سگے بھائی سے وصول کر لیا ہے۔

البتہ ہماری ماں نے اپنے حق میراث اب تک وصول نہیں کیا،ان کا حق میراث سگے بھائیوں پر تھا ،البتہ سگے بھائیوں کا بھی انتقال  ہو گیا،لیکن بھائیوں کے ورثاء موجود ہیں،اور داد ا کی زمین وغیرہ اموال ان کے پاس ہیں،اور وہ ہمیں اپنی ماں کی حق میراث نہیں دیتے، اور وہ کہتے ہیں کہ اتنی مدت سے تم نے دعوی نہیں کیا ہےلہذا اب تمہارا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ہم نے بہت مرتبہ دعوی کیاہے البتہ مدمقابل کے پاور اور اثر و رسوخ کی وجہ سے ہم کامیاب نہیں ہوسکے ، الحمدللہ اب طالبان کا حکومت ہےاور ہمیں یقین ہےکہ وہ شرعی حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے ،اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس سوال کا مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی کا حق وقت گزرنے یا اس کا دعوی نہ کرنے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا،خصوصاً حق میراث وہ تو محض زبانی معاف کردینے سے بھی معاف نہیں ہوتا،لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر حقیقت پر مبنی ہے،تو  آپ کے ماموں کے ورثاء کی بات  کو(کہ تم لوگوں نے دعوی نہیں کیا ) اگر تسلیم کربھی لیا جائے، پھر بھی آپ لوگوں کا حق میراث ساقط نہیں ہوتا، لہذا آپ لوگوں کے لیےان سے اپنے حق کا مطالبہ کرنا شرعا درست ہے۔

رہی بات کہ کتنا حق  بنتا ہے ؟ تو اس کی مقدار اب تک نام بنام تمام مرحومین کی ترتیب معلوم ہونے پر ہی بتائی جاسکتی ہے۔

لما في الرد:

في الأشباه وغيرها أن الحق لا يسقط بتقادم الزمان  اهـ ولذا قال في الأشباه أيضا ويجب عليه سماعها اهـ

(كتاب القاضي :8129، ط:رشيدية)

وفي الجامع الفصولين:

لوقال وارث :تركت حقي لا يبطل حقه ؛ إذالملك لايبطل بالترك ،والحق يبطل به.

الفصل الثامن والعشرون في مسائل التركة:240،ط: اسلامي كتب خانة)

وفي الأشباه والنظائر:

لوقال الوارث :تركت حقي لا يبطل حقه ؛ إذالملك لايبطل بالترك ،والحق يبطل به.

(الفن الثالث، مايقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله:2388،ط:ادارة القران)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/331