بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مال زکوة کا گم ہوجانا

مال زکوٰة کا گم ہوجانا

سوال

میں نے زکوٰة کے پیسے رمضان کے مہینے میں نکالے تھے، اس میں سے مستحق لوگوں کو روپیہ دے رہا تھا اور وہ پیسے دکان پر رکھے تھے ایک تھیلی کے اندر اور اندازاً 2000روپے اس میں موجود تھے، اب وہ تھیلی دکان میں نہیں مل رہی یا تو ملازم نے چوری کرلی یا کوئی اور بات ہوگئی ہے، آپ بتائیں کہ جو زکوٰة کے روپے دکان سے غائب ہوئے ہیں وہ مجھے دوبارہ دینے ہیں یا میری زکوٰة ادا ہوگئی ہے؟

جواب

  زکوٰة کی رقم میں سے جتنی مقدار فقیروں کو دی گئی ہے، زکوٰة کی اتنی مقدار ادا ہوگئی، باقی جتنی رقم گم ہوگئی ہے اتنی ہی رقم دوبارہ دینا ضروری ہے، محض زکوٰة کی رقم الگ کرنے سے زکوٰة ادا نہیں ہوگی۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی