بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قمار کی تعریف اور اس کی شرائط کا حکم

قمار کی تعریف اور اس کی شرائط کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ دو ٹیمیں اس شرط کے ساتھ گیم کھیلتی ہیں کہ جو ٹیم ہارے گی وہ دوسری ٹیم کو ایک ہزار روپے دے گی، شرعاً کیسا ہے؟ قمار کی تعریف اور اسکے تحقق کی شرائط ذکر فرما دیں؟

 

جواب

 قمار کی تعریف یہ ہے کہ جس معاملے میں کسی مال کا مالک بنانے کو ایسی شرط پر موقوف رکھا جائے جس کے وجود وعدم کی دونوں جانبیں مساوی ہوں، اور اسی بناپر نفع خالص یا تاوان خالص برداشت کرنے کی دونوں جانبیں برابر ہوں۔

قمار کی تمام صورتوں اور تعریفات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قمار کے لازمی عناصر منددرجہ ذیل ہیں۔
1..قمار دو یا دو سے زیادہ فریقوں کے درمیان ایک معاملہ ہوتا ہے۔
2..اس معاملے میں کسی دوسرے کا مال حاصل کرنے کی غرض سے اپنا کچھ مال داؤ پر لگایا جاتا ہے۔
3..قمار میں دوسرے کا جو مال حاصل کرنا منظور ہو، اس کا حصول کسی ایسے غیر یقینی اور غیر اختیاری واقع پر موقوف ہوتا ہے جس کے پیش آنے کا بھی احتمال ہو اور پیش نہ آنے کا بھی۔
4..قمار میں جو مال داؤ پر لگایا جاتا ہے یا تو وہ بغیر کسی معاوضے کے دوسرے کے پاس چلا جاتا ہے یا پھر دوسرے کا کچھ مال اس کے پاس بغیر معاوضے کے آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا خالص نقصان ہوتا ہے۔

جس کسی معاملے میں یہ چار عناصر پائے جائیں گے وہ قمار میں داخل ہو گا اور شرعاً حرام ہو گا۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شرط کے ساتھ کھیلنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ صریح ”جُوا“ ہے، قرآن وحدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی