بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قصر نماز کا کیا حکم ہے؟

قصر نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں :
1..میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں انجینئرز کو ملک کے مختلف شہروں میں جاکر کام کرنا پڑتا ہے، لیکن کچھ افراد ایسے ہیں جنہیں کسی ایک شہر میں مستقل بھیج دیا گیا ہے جیسے کہ مجھے ”سکھر“ بھیجا گیا ہے ، میری فیملی کراچی میں رہتی ہے اور میں سکھر دس سے بارہ دن رہنے کے بعدد و ، چار دن کے لیے کراچی آجاتا ہوں اپنے گھرو الوں کے پاس، سکھر میں کمپنی کی طرف سے مجھے رہنے کے لیے کمرہ دیا گیا ہے جو فیکٹری کی حدود میں ہے، میرا آنے جانے کا یہ سلسلہ چھ ماہ سے جاری ہے اور غالباً اگلے اٹھارہ ماہ تک رہے گا، تو کیا سکھر میں میری نماز قصر ہو گی؟
2..میری طرح دوسرے شہروں سے بھی لوگ سکھر میں کام کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے کمپنی کی طرف سے رہائش کا انتظام نہیں ہے، اس لیے تین، چار افراد نے مل کر کرائے کا مکان لیا ہوتا ہے، ان میں سے کچھ افراد ہر چھ روز کے بعد دو دن کے لیے اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاتے ہیں، یاد رہے کہ کسی کے بھی گھر والے سکھر میں نہیں ہیں اور وہ لوگ کئی سالوں سے ایسے ہی رہ رہے ہیں، تو کیا انہیں بھی نماز قصر کرنی ہو گی یا نہیں؟

سوال نمبر1.. اور نمبر2.. دونوں میں اگر کبھی قیام قصداً پندرہ دن یا اس سے زائد کا ہو جائے تو کیا آئندہ ہمیشہ پوری نماز پڑھنی ہو گی یا پھر ہر بار قصر کے ایام شروع سے گنے جائیں گے؟

جواب 

1 ، 2.. صورت مسئولہ میں چوں کہ آپ نے سکھر میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ دنوں کے لیے قیام نہیں کیا، بلکہ دس بارہ دن بعد کراچی واپس آگئے، اسی طرح باقی ملازمین بھی ہر چھ دن بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، اس لیے آپ حضرات سکھر میں مسافر شمار ہوں گے اور قصر نماز پڑھیں گے، لیکن جماعت کے ساتھ شریک ہو کر پوری نماز پڑھنے کی کوشش کریں تو زیادہ مناسب ہے۔
3..سکھر میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرنے کے بعد آئندہ کے لیے آپ حضرات سکھر میں مقیم شمار ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے، جب تک ملازمت کے سلسلے میں وہاں رہیں گے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی