بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطیں وصول ہونے سے پہلے زکوۃ

قسطیں وصول ہونے سے پہلے زکوۃ

سوال

زید نے بکر پر ایک گاڑی رمضان المبارک سے تین ماہ قبل چھ لاکھ اڑتالیس ہزار میں قسطوں پرفروخت کی ،اور معاہدہ یہ ہوا کہ بکر  ہر مہینے  زید کواٹھارہ ہزار روپے دے گااوریہ رقم  تین سال میں ادا ہوجائے گی، زید ہر یکم رمضان المبارک کو اپنے مال کی زکاۃ ادا کرتا ہے، اس رمضان المبارک میں بھی وہ صاحب نصاب ہےاور زکاۃ ادا کرنا چاہتا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ زید اس رمضان میں چھ لاکھ اڑتالیس ہزار کی زکاۃ ادا کرے گا یا صرف چوّن ہزار کی ؟اس کے متعلق شریعت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص (عبدالرزاق) پر گاڑی کی مکمل قیمت (چھ  لاکھ اڑتالیس ہزار )کی زکاۃ واجب ہوچکی ہے،البتہ جو  چوّن ہزار وصول کر چکا ہے،اس کی ادائیگی فی الفور واجب ہوگی،لہذا   اس چوّن ہزار کو پہلے نصاب کے ساتھ ملاکر فی الحال  زکاۃ ادا کرے  گا ،اور وہ رقم  جو  ابھی تک وصول نہیں ہوئی  اس  کے بارے میں بہتر تو یہی  ہے کہ اس کی بھی فی الحال کی زکاۃ ادا کردے ، وگرنہ جیسے جیسے قسطیں  وصول ہوتی رہیں ان  کی زکاۃ  ادا کرتا رہے ۔

لما في البدائع:

وتجب الزكاة في الدين مع عدم القبض وتجب في المدفون في البيت فثبت أن الزكاة وظيفة الملك والملك موجود فتجب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بالأداء للحال لعجزه عن الأداء لبعد يده عنه وهذا لا ينفي الوجوب كما في ابن السبيل..... وكذا الدين المقر به إذا كان المقر مليا فهو ممكن الوصول إليه (كتاب الزكاة، فصل وأما الشرائط التي ترجع إلى المال،92، ط:دارالكتاب العربي)

وفي الشامية:

والحاصل أنه إذا قبض منه شيئا وعنده نصاب يضم المقبوض إلى النصاب ويزكيه بحوله، ولا يشترط له حول بعد القبض.

(كتاب الزكاة،باب زكاة المال، مطلب في وجوب الزكاة في دين المرصد،3062،ط:دارالكتب) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/200