بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قسطوں پر موٹر سائیکل کی خرید وفروخت کرنا

قسطوں پر موٹر سائیکل کی خرید وفروخت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک موٹر سائیکل اسکیم ہے جس میں کل موٹر سائیکل100 اور کل ممبران بھی100 ہیں، جس کی کل مدت13ماہ اور ماہوار قسط4000 روپے ہے اور جس کی شرائط درج ذیل ہیں:
1..یہ اسکیم13ماہ تک جاری رہے گی، قرعہ اندازی ہر ماہ کی 15 تاریخ کو ہوگی، پہلی قرعہ اندازی15 دسمبر2018ء کو ہو گی ، ہر ماہ3 موٹر سائیکل بذریعہ قرعہ اندازی دی جائیں گی۔
2..ہر ممبر ماہانہ مبلغ4000/= (چارہزار) روپے یک مشت ادا کرے گا، یاہفتہ وار ایک ہزار روپے ادا کرے گا۔
3..ہر ممبر10 تاریخ تک قسط جمع کرائے گا او رجو قسط جمع نہیں کرسکا اس کا نام اس ماہ کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
4..اگلے ماہ کی قرعہ اندازی کے لیے پچھلے ماہ کی قسط بھی دینی لازمی ہو گی۔
5..جو ممبر کسی وجہ سے اپنی قسط دینا بند کرے گا، اس کی ممبر شپ ختم کر دی جائے گی او رجمع شدہ رقم اسکیم کے ختم ہونے کے بعد واپس کر دی جائے گی۔
6..13 ماہ پورے ہونے کے بعد بقیہ ممبران کو سپر پاور موٹر سائیکل دی جائے گی۔
7..ایڈوانس پر موٹر سائیکل حاصل کرنے کے لیے 15 دن پہلے مبلغ8000/= (آٹھ ہزار) روپے جمع کرانے ہوں گے، جو ناقابل واپسی ہوں گے۔
8..جس ممبر کا نام بذریعہ قرعہ اندازی نکلا، اس کو موٹر سائیکل دی جائے گی اور وہ ہر ماہ کی قسط دینے کا پابند ہو گا۔

نوٹ… موٹر سائیکل کی رجسٹریشن ممبران کے ذمہ ہو گی جو 10 دن کے اندر مبلغ3500/= روپے ادا کرے گا، ممبر کورننگ پیج کی کاپی دی جائے گی او رمکمل فائل اسکیم ہولڈر کے پاس جمع ہو گی جب تک قسطیں مکمل نہیں ہو جاتیں۔

یونیک(Unique) موٹر سائیکل لینے والے سے مبلغ2000/= روپے اضافی لیے جائیں گے۔

شریعت کی روشنی میں درج بالا اسکیم کا حکم تحریر فرماکر ثواب دارین حاصل کریں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ موٹرسائیکل اسکیم کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، مفاسد درج ذیل ہیں:
1..اگرخرید وفروخت کا یہ معاملہ مطلق بیع ہی تصور کیا جائے، یعنی قسط وار پیسے جمع کرکے موٹر سائیکل وصول کرنا، تو یہ بیع بالتقسیط ہے، بیع بالتقسیط میں بائع کے لیے جائز نہیں کہ ثمن کی مکمل ادائیگی تک مبیع کو اپنے پاس روکے رکھے، بلکہ بیچنے والے پر ضروری ہے کہ مبیع اس خریدار کے حوالے کرکے اس کے بعد قسط وارپیسے اپنے پاس جمع کرتا رہے، لیکن صورت مسئولہ میں مبیع (موٹرسائیکل) اس وقت تک حوالہ نہیں کی جاتی جب تک ثمن (قیمت) مکمل نہ ہو۔

2..اس خرید وفروخت کے معاملے کو بیع سلم پر بھی محمول نہیں کیا جاسکتا؛ اس لیے کہ بیع سلم کے اندر خریدنے والے پر ضروری ہے کہ مجلس عقد ہی میں راس المال مسلم الیہ کے حوالے کر دے، اگر راس المال مسلم الیہ کے حوالے نہیں کیا تو یہ بیع الکالئی بالکالئی کی صورت بن جائے گی جو کہ شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے۔

3..شرط نمبر:5 درست نہیں، اس لیے کہ ممبر شپ ختم ہونے کے بعد جمع شدہ رقم واپس لینا ہر ممبر کا حق بنتا ہے، اس میں تاخیر کی شرط لگانے سے اس کی حق تلفی ہو رہی ہے، لہٰذا یہ شرط شرطِ فاسد ہے۔

4..شرط نمبر8 میں مذکو رہے کہ ””ایڈوانس پر موٹر سائیکل حاصل کرنے کے لیے 15 دن پہلے مبلغ8000/= آٹھ ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے، جو ناقابل واپسی ہوں گے“… یہ شرط بھی شرط ِ فاسد ہے؛ اس لیے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق مشتری جو رقم بطور ایڈوانس بائع کے پاس رکھتا ہے وہ پیسے بائع کے پاس امانت ہوتے ہیں، لہٰذا اگر کسی وجہ سے مشتری اپنی ممبر شپ ختم کرکے موٹر سائیکل نہ خریدے تو بائع پر واجب ہے کہ موجودہ ایڈوانس کے پیسے اس کو واپس دے دے… لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔

لہٰذا یہ اور اس طرح کے دیگر مفاسد کے باعث مذکورہ اسکیم شرعاناجائز ہے، اس میں حصّہ لینا شرعاً جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی