بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وظیفہ پڑھنے میں اجازت لینے کا حکم

وظیفہ پڑھنے میں اجازت لینے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب کوئی وظیفہ پڑھا جاتا ہے یا کوئی عمل کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس کی اجازت ضروری ہے، اجازت کے بغیروظیفہنہیں پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح سے بہت سے لوگ کہتے ہیں فلاں وظیفہ مجھے کسی نے بخشا ہے اور اورادوظائف کی کتابوں میں سے وظائف ہیں اور یہ وظائف زیادہ تر قرآنی آیات، سورتوں،الله کے ناموں درود شریف وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان میں اجازت کی کیا ضرورت ہے؟! وظیفہ کی اجازت یا وظیفہ کے بخشنے سے کیا مراد ہے او راس سلسلے میں علمائے دین کیا کہتے ہیں اور شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اوراد ووظائف کے پڑھنے میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے او رنہ اس کی تاثیرکسی کی اجازت پر موقوف ہے، البتہ اگر اجازت لی جائے تو اس سے برکات میں اضافہ ہو گا، حکم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی نوّرالله مرقدہ فرماتے ہیں: ”فائدہ کی دو قسمیں ہیں: ایک اجروثواب، دوسرے کیفیت باطنی، پس بلا اجازت پڑھنے سے اجر وثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوتی، البتہ کیفیت باطنی میں تفاوت ہوتا ہے۔ (امداد الفتاوی جدید، مسائل شتی، عنوان سوال : دلائل الخیرات پڑھنے پڑھانے میں اجازت کا دخل:356/10 زکریا بک ڈپو، انڈیا)