بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قبضہ کے بغیر ہبہ شرعاً معتبر نہیں

قبضہ کے بغیر ہبہ شرعاً معتبر نہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے اپنے انتقال سے چند سال پہلے بغیرکسی زور زبر دستی کے اپنی مرضی سے اپنی تمام بیٹیوں کو وراثت میں سے کچھ حصہ دے دیا اور انہوں نے بھی اپنی خوشی سے بنا کچھ بولے اپنا حصہ لے لیا… اور رہا میرے والدکا ایک بڑا بیٹا جو علیحدہ رہتا ہے، اس کے علیحدہ رہنے کی وجہ یہ ہے انہوں نے اپنی مرضی کی شادی کی اور نکاح میں گواہان بھی معلوم نہیں کون لوگ تھے، بہرحال پھر والد نے کہا کہ جہاں سے شادی کرکے آئے ہو وہیں چلے جاؤ اور میرے بڑے بھائی فوراً اسی وقت چلے گئے۔

پھر کافی سالوں کے بعد والد نے بھائی کو بلوایا او رکہا کہ کچھ رقم لے لو وراثت کی مد میں، مگر بھائی نے انکار کر دیا کہ چھوٹے ( یعنی میں ) کو گھر اور مجھے رقم… مجھے نہیں چاہیے او رمجھے گھر مل گیا ”اورل گفٹ“ (جس کے کاغذات میرے پاس میرے نام ہیں) (والد کی دلیل: کہا کہ نہیں یہ چھوٹا ہے اس کی کمائی اتنی نہیں ہے میں اس کو کرائے کے مکان میں کر دوں اور اس کو غریب کردوں، یہ چھوٹا ہے، میرے پاس رہتا ہے، تم تو مجھے چھوڑ کے چلے گئے، میں نے تم کو بہت پڑھایا،لکھایا تم نے مجھے ایک روپیہ بھی اپنی کمائی کا نہیں دیا، تم جہاں جس مکان میں رہتے ہو وہ تمہارا ہے، تمہارے پاس ذاتی گھر ہے (سُسرال کا۔ بھائی کی بیوی اپنے والدین کی واحد اُولاد ہے)۔

اور پھر والدکا انتقال ہو گیا۔ (آپ کویہاں میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ میرے بڑے بھائی سے والد خوش نہیں تھے، وہ کبھی کبھی روتے بھی تھے اُن کی جدائی کی وجہ سے، اور بھائی بھی کبھی عید، بقرہ عید پر نہیں آتے تھے، جس کا شکوہ والد نے کئی بار مجھ سے بھی کیا اور اس کی گواہ میری والدہ بھی ہیں، اور کبھی اس کے علاوہ آئے تو والد صاحب کو ”ابو“ نہیں کہتے تھے بلکہ اُن کو اُن کے نام کے ساتھ صاحب لگا کر مخاطب کرتے تھے، اب میری بہن بھائی کے ساتھ مل گئی ہے کہ گھر بیچو اور حصہ دو ،او ربھائی بولتے ہیں میں اپنی بہنوں کو حق دلاؤں گا۔ (حالاں کہ حق تو بہنوں کو مل چکا ہے،۔

سوال یہ ہے کہ : اب بھی کیا بہنوں کا حق بنتا ہے؟ اور کیا بھائی کا حق اب کوئی باقی ہے؟ ( والد نے خوشی سے مجھے گھر دیا اور بھائی کو اپنی مرضی سے رقم دینی چاہی جو انہوں نے نہیں لی) اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا”اورل گفٹ“ کے کاغذات قانونی طور پر چیلنج ہوسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ والد اپنی زندگی میں جو مال اپنے بیٹوں یا بیٹیوں میں تقسیم کرے وہ وراثت میں سے شمار نہیں ہوتا، بلکہ تحفہ ( گفٹ) ہوتا ہے۔

باقی جن بیٹوں یا بیٹیوں نے والد کی زندگی میں اس پر قبضہ کرکے استعمال کیا ، تو وہ اس کے شرعاً مالک ہوں گے، ان حصوں میں وراثت جاری نہیں ہو گی، اس کے علاوہ جو مال والد کی وفات کے بعد رہ جائے وہ ترکہ میں شمار ہو گا، سب سے پہلے ترکہ میں سے مرحوم کے کفن دفن کا درمیانہ خرچہ نکالا جائے، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض یا دیگر مالی واجبات ہوں ، تو وہ ادا کیے جائے، اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر ورثاء کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو اس کوبقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے ادا کیا جائے، باقی میراث اولاد میں بشمول ان بیٹوں اور بیٹیوں کے جن کو پہلے حصہ ملا تھا، شرعی طور پر تقسیم ہو گا۔

والد صاحب نے چھوٹے بیٹے کو جو گھر دیا ہے چوں کہ اس میں ہبہ (گفٹ) کے شرائط پورے نہیں پائے جاتے لہٰذا وہ بھی میت کا ترکہ شمار ہو گا اور تمام ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہو گا، شریعت کا حکم یہی ہے ، اس کی خلاف ورزی کرناناجائز او رگناہ ہے، باقی قانونی کارروائی کے بارے میں وکلاء سے رجوع فرمائیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی