بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قبضہ سے پہلے گاڑیوں کی خرید وفروخت اور کمیشن ایجنٹ کی کمیشن کی تعیین

قبضہ سے پہلے گاڑیوں کی خرید وفروخت اور کمیشن ایجنٹ کی کمیشن کی تعیین

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام گاڑیوں کی خرید وفروخت کے کاروبار کے حوالے سے1..۔ عام طور پر مارکیٹ میں رواج ہے کہ جاپان سے گاڑی خریدتے ہیں اور وہ گاڑی راستہ میں ہوتی ہے تو اس کو آگے بیچ دیتے ہیں اور ٹوکن لے لیتے ہیں، پھر گاڑی جب پورٹ سے کلیئر ہو کر باہر آتی ہے تو گاڑی دے کر بقایا رقم لے لیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
2..مارکیٹ میں پارٹی کی گاڑی ہوتی ہے، پارٹی بولتی ہے مجھے ایک معینہ رقم چاہیے، باقی اوپر جو ہوں گے وہ آپ کے ہوں گے، کیا یہ جائز ہے؟
3..میرا ایک پارٹی سے کام ہے ،وہ مجھے گاڑی دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ قیمت لگواؤ، مجھے جو قیمت لگتی ہے اس سے کچھ کم کرکے ان کو بتاتا ہوں، ان کو بھی اندازہ ہے اس بات کا کہ میں بیچ میں اپنے رکھتا ہوں اورمارکیٹ میں اسی طرح رائج ہے کہ فروخت کرنے والے سے پیسے کم کراکر، مہنگے داموں فروخت کرکے، درمیان کا نفع خود رکھ لیتے ہیں اور عام طور پر اس کا فروخت کرنے والے کو اندازہ ہوتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

(۱) واضح رہے کہ مبیع پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آگے فروخت کرناناجائز ہے، لہٰذا مذکورہ پارٹی کا گاڑی خریدتے ہی قبضہ سے پہلے راستہ میں اس کا آگے فروخت کرنا ناجائز ہے۔

(3،2)صورت مسئولہ میں چوں کہ پارٹی جس شخص کو گاڑی آگے فروخت کرنے یا بولی لگوانے کے لیے دیتی ہے اس کی اُجرت متعین نہیں ہوتی، اس لیے مذکورہ صورت ناجائز ہے، اس کے جواز کی پہلی صورت یہ ہے کہ پارٹی فروخت کرنے پر مذکورہ شخص کی اُجرت متعین کرلے اور گاڑی فروخت ہونے پر اصل قیمت اور نفع سارا مالک کا ہو گا۔

اور اس کے جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ پارٹی مذکورہ شخص پر متعین مدت کے لیے اُدھار پر گاڑی بیچ دے، چاہے پھر اس کو گاڑی میں نفع ہو یا نقصان، پارٹی اس کی ذمہ دار نہ ہو اور اس سے اپنی متعینہ قیمت وصول کر لے، تو اس صورت میں مذکورہ شخص کے لیے گاڑی کو آگے کسی اور شخص پر پارٹی کی متعینہ قیمت سے زائد رقم پر بیچ کر زائد رقم اپنے لیے رکھنا جائز ہوگا۔